شہدآء الحق — Page 35
۳۵ وہاں تقسیم کیا۔اور خوست سے فارغ ہو کر کابل گئے۔اور وہاں کے علماء کو پیش کیا۔اور ان سے گفتگو کی۔اس امر کو وہاں کے علماء نے امیر عبدالرحمن خان کے گوش گذار کیا۔اور اس نے حضرت مولوی عبدالرحمن صاحب احمدی کو اپنے دربار میں بلوایا اور بیان لیا۔اور کابل میں یہ غلط فہمی پیدا ہو گئی۔کہ گویا حضرت احمد اور جماعت احمد یہ ہر قسم کے جہاد کے منکر ہیں۔اور ان رسائل کو اپنے جہاد بالسیف کے خلاف پایا۔امیر عبدالرحمن خان نے کچھ عرصہ حضرت مولوی عبدالرحمن احمدی کو قید میں رکھا۔اور پھر دربار میں بلوایا۔اور جب ان کو اپنے جاری کردہ جہاد کے خلاف پایا۔تو ان کے قتل کا حکم دے دیا۔اور ان کے گلے کو گھونٹا گیا۔اور دم گھٹ کر شہید ہوئے انا لله و انا اليه راجعون بہ واقعہ ا ١٩٠ء کے آغا ز نصف میں ہوا اور یہ پہلا احمدی مظلوم تھا جس کو محض اس بات کے الزام میں قتل کیا گیا کہ یہ غیر اسلامی اور مخالف تعلیم قرآن بلا وجہ انگریزوں کو قتل کرنا کیوں جہاد قرار نہیں دیتا۔حضرت احمد مسیح موعود علیہ السلام کو اس سے قبل الہام الہی سے اطلاع مل چکی تھی - شاتان تذبحان (دیکھو البشرى جلد اول صفحه (۳۵) یعنی دو بکرے مارے جائیں گے۔اور حضرت عبدالرحمن صاحب بکرے کی طرح نہایت ظلم سے مارے گئے۔