شہدآء الحق

by Other Authors

Page 34 of 173

شہدآء الحق — Page 34

۳۴ شوق سے یہ ذکر سنا اور مزید حالات معلوم کرنے کی غرض سے ان کی کوئی تصنیف دیکھنے کی خواہش کی اور سید چن بادشاہ نے آئینہ کمالات اسلام یا دافع الوساوس مصنفہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام بغرض مطالعہ پیش کی اور اس طرح افغانستان کے ایک درخشندہ گوہر کو احمدیت کا پیغام مل گیا۔یہ کمیشن ۲۹ مئی ۱۸۹۴ ء لغایت ۳ دسمبر ۱۸۹۴ ء اپنا حد بندی کا کام کر کے واپس ہو گیا۔حضرت سید عبداللطیف صاحب اس کے بعد وقتاً فوقتاً اپنے ہوشیار اور عالم شاگرد مولوی حضرت عبدالرحمن صاحب اور حضرت مولوی عبدالجلیل صاحب کو افغانستان سے بغرض حصول معلومات و حالات مزید قادیان بھیجا کرتے اور وہ تازہ حالات سے ان کو مطلع کیا کرتے۔اور تالیفات جدیدہ ساتھ لے جایا کرتے۔آخری دفعہ حضرت عبد الرحمن صاحب دسمبر ۱۹۰۰ء میں قادیان آئے۔اور واپسی پر براہ پشاور افغانستان گئے۔اور بدوران قیام پشاور جناب خواجہ کمال الدین صاحب وکیل پشاور کے بالا خانہ پر بیرون کا بلی دروازہ مقیم رہے۔اور یہاں سے روانہ وطن ہوئے۔ان دنوں سرحد پر افغان غازی بے گناہ انگریزوں کے قتل و خون ناحق میں مشغول تھے۔ان حالات کو دیکھ کر حضرت احمد علیہ السلام نے ایک رسالہ جہاد پر لکھا۔اور اس میں حقیقت جہاد پر بحث کی تھی اور اس قسم کے جہاد کو حرام قرار دیا تھا اور انجمن حمایت اسلام لاہور کی مساعی سے ان دنوں علمائے ہند وسرحد نے بھی ایک فتویٰ عربی فارسی اور اردو میں چھوٹے چھوٹے رسالوں کی صورت میں چھپوایا تھا اور کثرت سے سرحد پر تقسیم کیا گیا تھا۔جن میں سے کچھ حضرت عبدالرحمن صاحب احمدی اپنے ساتھ افغانستان لے گئے تھے اور ان کو