شہدآء الحق

by Other Authors

Page 19 of 173

شہدآء الحق — Page 19

۱۹ اختیار کریں۔اور قرآن کتاب اللہ پر ایمان لائیں۔اور اس کی تعلیم اور تعمیل پر عامل ہوں۔اور اشاعت اسلام اور تبلیغ دین حق میں اس کے معاون اور ممد ہوں۔کہتے ہیں کہ امیر عبدالرحمن کو جس وقت یہ دعوت پہنچی۔تو اس نے سن کر فرمایا ما را عمر باید نه عیسی عیسی در زمان خود چه کرده بود که بار دیگر آمده خواهد کرد یعنی ہم کو حضرت عمر فاروق کی ضرورت ہے حضرت عیسی ناصری کی ضرورت نہیں۔حضرت عیسی نے بعثت اولی میں کیا کامیابی حاصل کی تھی کہ اب دوبارہ آکر حاصل کریں گے۔“ ہم کو تو ہرگز یہ یقین نہیں آتا۔کہ امیر عبدالرحمن خان نے مسلمان کہلا کر ایسا گستاخانہ فقرہ ایک اولو العزم نبی کے حق میں کہا ہو۔جس سے نہ صرف حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی بعثت اولی پر حملہ ظاہر ہے۔بلکہ اس سے ان کی بعثت ثانیہ کی عدم ضرورت ثابت ہوتی ہے۔حالانکہ نزول و ظہور عیسی موعود کی خبر قرآن کریم میں خود خدا تعالیٰ نے دی ہے۔اور احادیث صحیحہ میں خود حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دی ہے۔اور اگر اس فقرہ کی یہ تاویل کی جائے۔کہ چونکہ حضرت عیسی ناصری ایک جمالی نبی تھا۔اور اس کی تعلیم صلح اور آشتی اور امن اور اخلاق پر مبنی ہے اور حضرت عمر فاروق نے کفار اسلام کے مقابلہ میں شمشیر سے کام لے کر جہاد کیا تھا۔اس واسطے یہ زمانہ تبلیغ اسلام کے واسطے جہاد بالسیف کو چاہتا ہے۔اور تبلیغ بالقرآن والبُرہان کی ضرورت نہیں۔تو اس طرح گویا امیر موصوف نے پادریوں اور مخالفین اسلام کی تصدیق اور تائید کی کہ اسلام کی اشاعت واقعی بزور شمشیر ہوئی ہے۔اور وہ اپنی قوت روحانیہ اور