شہدآء الحق

by Other Authors

Page 151 of 173

شہدآء الحق — Page 151

۱۵۱ ۱۹۲۸ء میں واپس آئے۔تو افغانستان کے اندرا میر موصوف کے خلاف نفرت اور بغاوت پھیل چکی تھی۔اس موقع سے ملاؤں نے فائدہ اٹھایا۔اور حبیب اللہ بچہ سقہ کو جرات دلائی کہ وہ کا بل پر حملہ آور ہو۔اور امیر امان اللہ خان کے دل میں خدا تعالیٰ نے بچہ سقہ کا ڈر اور رعب بٹھا دیا کہ وہ ڈر اور بزدلی سے کابل کے تخت و تاج سے دست بردار ہو کر قندھار کی راہ سے بڑی بے سروسامانی اور پریشانی میں بھاگے اور پیچھے مڑ کر نہ دیکھا۔کہ وہ کیا کر رہے ہیں۔جن انگریزوں سے اس کو نفرت تھی۔بالآخر انہی کے دستِ کرم اور امداد کا محتاج ہوا۔چمن آیا۔دہلی سے ہوتا ہوا بمبئی پہنچا۔وہاں ملکہ ثریا بیمار ہوئی اور ایک لڑکی تولد ہوئی۔اور قدرے صحت پا کر بمبئی سے اطالیہ پہنچے۔وہاں مقیم ہوئے۔اے سکندر نہ رہی تیری بھی عالمگیری کتنے دن آپ جیا کس لئے دارا مارا امیر امان اللہ خان نے جس تخت و تاج کی حفاظت کے واسطے جماعت احمدیہ کے بے گناہ مبلغ حضرت نعمت اللہ خان - حضرت مولوی عبدالحلیم اور حضرت قاری نور علی شہید کئے وہ تخت و تاج ایک آن کی آن میں حبیب اللہ بچہ سقہ کے ڈر سے امیر امان اللہ خان چھوڑ بھاگا - آیت لـلـســائــليــن وعبرة للناظرین کا مقام ہے۔جب سردار محمد نادر خان کو فرانس میں علم ہوا۔کہ افغانستان کا یہ حشر ہوا۔تو وہ بمعہ اپنے بھائیوں کے بیمار حالت میں قیصر ہند جہاز میں