شہدآء الحق — Page 45
۴۵ امور گوش گزار کر دیں۔کسی طرح سردار نصر اللہ خان کو اس بات کا علم ہوا۔اور اس نے ان خطوط میں سے جو سردار محمد حسین خان کے نام تھے حاصل کر لئے۔اور امیر حبیب اللہ خان کو اپنے ڈھب سے آگاہ کیا۔اور امیر موصوف سے کہا کہ حضرت شہید مرحوم کو کابل بلوایا جاوے۔تا کہ علماء کابل کے سامنے تحقیق کی جاوے۔چنانچہ سردار موصوف کی تحریک سے کابل سے فرمان جاری ہوا اور حاکم خوست نے جو بڑا متعصب آدمی تھا۔آپ کو کچھ مدت خوست میں قید کیا۔اور پھر پہرہ کے ساتھ پہنچا دیا۔اور حضرت شہید نے تن تنہا مع ایک آدھ مرید کے سفر کابل کا ارادہ کیا۔اور گارد کے ساتھ روانہ کا بل ہو گئے۔اور اہل بیت کو صبر واستقامت کی تلقین کر گئے۔جب کا بل پہنچے اور سردار نصر اللہ خان کو اطلاع ہوئی۔تو اس نے حکم دے دیا۔کہ ارک شاہی کے ساتھ تو قیف خانہ میں نظر بند کر دیا جاوے۔اور ایسا ہی کیا گیا۔کھانا آپ کو سردار عبدالقدوس خان اور سردار محمد حسین خان کی طرف سے پہنچایا جاتا۔امیر کابل نے اپنے حضور میں بلوایا۔نزاکت حالات سے آگاہ کیا اور کہا کہ کیا اچھا ہو۔کہ آپ مصلحۂ سلسلہ احمدیہ کے ممبر ہونے سے انکار کر دیں۔اور سر دست اس دار و گیر سے نجات حاصل کریں۔مگر حضرت شہید مرحوم نے جواب دیا۔کہ جن امور کو میں از روئے قرآن و حدیث درست اور صحیح تسلیم کر چکا ہوں۔ان کو کس طرح غلط اور جھوٹ کہہ دوں۔اور جس شخص کی صداقت کو بچشم خود مطالعہ کر چکا ہوں۔اس کو کس طرح بطالت سے نسبت دوں۔اس سے تو مرنا اچھا ہے۔مگر انکار درست نہیں نیز حضرت شہید