شہدآء الحق

by Other Authors

Page 41 of 173

شہدآء الحق — Page 41

زبر دست ثبوت ہے۔کہ آپ کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی آمد کی اللہ تعالیٰ سے بشارت ملی تھی۔چنانچہ آپ کے کئی شاگردوں کا بیان ہے۔کہ آپ نے پہلے سے ہمیں بتلایا تھا۔کہ اس زمانہ میں مسیح موعود آنے والے ہیں۔اس لئے آپ نے اپنے شاگردوں کو پہلے سے احمدیت کے لئے تیار کیا تھا۔اور جب آپ کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتاب پہنچی تو آپ نے فوراً مان کر صد یقیت کا ایک بڑا نمونہ پیش کیا۔حضرت صاحبزادہ صاحب چونکہ قرآن وحدیث کے پیرو تھے۔اور اہل بدعت فرقے آپ کے قرآن و حدیث و علوم حقانی کے پھیلانے کی وجہ سے سخت مخالف بلکہ جانی دشمن بن گئے تھے۔اسی وجہ سے سردار نصر اللہ خان اور دوسرے بدعتی پیر۔۔۔صاحبزادہ صاحب کے سخت مخالف تھے۔مگر چونکہ آپ کا رسوخ حکومت کے ساتھ نہایت مضبوط تھا اس لئے سردار نصر اللہ خان آپ کو نقصان پہنچانے میں کامیاب نہیں ہو سکتا تھا۔لیکن جس وقت حضرت صاحبزادہ صاحب نے احمدیت کا اعلان افغانستان میں کر دیا۔تو سردار نصر اللہ خان کو یہ ایک بڑا بہانہ مل گیا اور آپ کے خلاف مفسدہ پرداز مولویوں میں سخت پراپیگنڈا کیا۔حتی کہ امیر حبیب اللہ خان کو بھی مولویوں کے فتوے پر دستخط کرنے پر مجبور کیا۔جب خاکسار راقم ۲۳ / رمضان المبارک ۱۳۲۰ھ مطابق ۲۳ دسمبر ۱۹۰۲ء جلسہ سالانہ کے موقع پر پہلی دفعہ قادیان پہنچا۔تو مہمان خانہ میں جہاں اس وقت جنوب کی طرف پہلا کمرہ ہے۔اس میں حضرت شہید مرحوم اور ان کے ساتھی ٹھہرے ہوئے تھے۔اور جہاں اب کنواں ہے۔وہاں پر صبح چار پائی