شہدآء الحق — Page 132
۱۳۲ ہے اور تو ہر بات پر قدرت رکھتا ہے۔غازی امان اللہ خان نے اپنے آپ کو معزول کر لیا۔اور دوشنبہ کے دن صبح ۸ بجے ۳ / شهر شعبان المعظم ۱۳۴۷ھ مطابق ۱۴ جنوری ۱۹۲۹ء کو اپنی حکومت سے دست برداری کے کاغذ پر دستخط کر دیئے۔اور شہر کابل کو ہمیشہ کے واسطے خیر باد کہہ دیا ( دیکھو زوال غازی صفحه ۳۴۰) فاعتبرو آیا اولی الابصار خدا کے فرستادہ حضرت احمد قادیانی نے کیا سچ فرمایا تھا۔کہ مجھ سے جو ہوگا الگ وہ جلد کاٹا جائے گا ہو وہ سلطان یا کہ قیصر یا ہو کوئی تاجدار ترک افغانستان و سفر اطالیہ: عزیز ہندی کہتا ہے کہ غازی امان اللہ خان کو راستہ میں ایک لاری سے پٹرول مل گیا اور سیدھا غزنی اور وہاں سے مسقر اور قندھار جا پہنچا۔وہاں پہنچ کر اس کو پتہ لگا۔کہ سردار عنایت اللہ خان بھی تیسرے دن ۵ /شعبان المعظم ۱۳۴۷ھ کو کابل چھوڑ چکا ہے۔تو اس نے دوبارہ اپنی بادشاہی کا اعلان کر دیا۔مگر دول خارجہ نے اس کی دوبارہ اعلان شاہی کو تسلیم نہ کیا۔اور اس بات کو غالباً اس کی تلون مزاجی اور عدم استقلال پر محمول کیا۔کچھ سامانِ حرب اور فوج مہیا کر کے قندھار سے مستقر کی طرف بڑھا اور جنگ شروع کر دی۔مگر غازیوں کے ایک ہی حملہ نے اس کی رہی سہی تو قع پر بھی پانی پھیر دیا۔اور افواج ہنوز مصروف جنگ تھیں۔کہ غازی امان اللہ خان میدان جنگ سے کھسک گیا۔اور قندھار آ کر بال بچوں کو ساتھ لیا۔اور سیدھا سرحد چمن بلوچستان کا راستہ لیا۔اور سرحدات ہندوستان میں آکر دم لیا اور براہ کو ئٹہ اور دہلی بمبئی میں آن پہنچا۔چندے