شہدآء الحق

by Other Authors

Page 119 of 173

شہدآء الحق — Page 119

۱۱۹ سے دنیا حیرت میں مبتلا نہ ہوئی۔جو سزا حضرت شہید عبداللطیف کے قتل کے بعد اس کے باپ امیر حبیب اللہ خان اور اس کے خاندان کو ملی۔وہ قابل عبرت نہ تھی۔کیا حضرت نعمت اللہ خان کو قتل کر کے امیر امان اللہ خان نے تخت و تاج نہ کھویا ؟ اور اس کے خاندان کے لوگ قتل نہ ہوئے۔کیا یہ مواخذہ بہت جلد خدا تعالیٰ نے نہ کیا۔چاہئے تو تھا کہ یہ لوگ پھر ان کلمات کو حرف بحرف پورا ہوتا دیکھ کر جو چار سال قبل از وقت کہے گئے تھے۔وہ ہمارے ہاتھ اور قلم کو بوسہ دیتے۔الٹا ہمارے خلاف طوفانِ بے تمیزی برپا کیا۔اور ظالم کا ساتھ دیا۔حالانکہ اپنے دل میں وہ بھی امیر امان اللہ خان کو ظالم ہی یقین کرتے تھے۔اور اس کی ان حرکات کو خلاف اسلام جانتے تھے۔مگر ان کے ذاتی بغض نے ان کے دلوں کو اندھا کر دیا۔اور ان کے ہاتھوں اور زبانوں نے ہمارے خلاف لکھا اور کہا جو خود ان کے واسطے موجب ذلت و ندامت وسبب حسرت ہوا۔پاداش ظلم : ایک گروہ میں سے بڑا حصہ اول ایک شخص باشندہ پشاور نے لیا اور خدا تعالیٰ نے آخر اس کو ایک خطر ناک اور مہلک بیماری میں مبتلا کر دیا۔اور عرصہ دراز تک گوناں گوں تکالیف میں معذب رہا۔اسی حالت میں ایک لڑکا سل کے مرض سے فوت ہوا۔اور اس کے صدمہ کے بعد وہ خود بھی دکھ اور تکالیف برداشت کرتا ہوا فوت ہوا۔اور اس کے بہت جلد بعد ایک نوجوان لڑکا بھی جو انا مرگ مر گیا۔دوسرا دشمن عنید ایک اور شخص ا تھا۔جس نے اخبار سرحد پشاور میں ے ان دوسرے صاحب کو خدا تعالیٰ نے فوت ہونے سے پہلے حضرت خلیفتہ المسیح الثانی سے تجدید بیعت کی توفیق دی۔اور فوت ہو کر احمد یہ قبرستان پشاور میں دفن ہوئے۔خدا تعالیٰ عفو کرے اور مغفرت نصیب کرے۔آمین