شہدائے لاہور کا ذکر خیر — Page 79
کے سر اور سینے میں گولیاں لگی تھیں۔گرینیڈ پھٹنے کی وجہ سے پسلیاں بھی زخمی ہوگئی تھیں، جس کی وجہ سے شہادت ہوئی۔شیخ صاحب نے ایک خواب میں دیکھا کہ ربوہ میں ایک بہت خوبصورت سڑک ہے یا خوبصورت قالین بچھے ہوئے ہیں، بڑی بڑی کرسیوں پر خلفاء تشریف فرما ہیں اور سب سے اونچی کرسی پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام تشریف فرما ہیں اور کہتے ہیں میں بھی (یعنی شیخ صاحب) ساتھ گھٹنے جوڑ کر بیٹھا ہوا ہوں۔اہلِ خانہ نے بتایا کہ خلافت کے شیدائی تھے۔پنجوقتہ نماز کے پابند۔دل کے مریض ہونے کے باوجود شدید گرمیوں اور سردیوں میں نمازیں مسجد میں جا کر ہی ادا کیا کرتے تھے۔کسی شکرانہ کے موقع پر جب الحمد للہ ادا کرتے تو ساتھ ہی ان کی آنکھیں نم ہو جاتیں۔خدا پر تو کل بہت زیادہ تھا۔کہتے تھے کہ بظاہر ناممکن کام بھی اللہ تعالیٰ کے فضل سے ممکن ہو جاتے ہیں۔تہجد گزار تھے ، ضرورتمندوں کا خیال رکھتے تھے۔جو بھی معمولی آمدنی تھی اس سے دوسروں کا بھی خیال رکھتے تھے۔سادہ زندگی بسر کرتے تھے مختلف علمی مقالہ جات لکھے اور نمایاں پوزیشن حاصل کیں۔دعوت الی اللہ میں مستعد تھے۔ان کی اہلیہ کہتی ہیں کہ ڈاور کے قریب ایک گاؤں میں ہم دونوں میاں بیوی مختلف اوقات میں قریباً چھ سات سال تک دعوت الی اللہ کرتے رہے اور قرآن مجید کی کلاسیں لیتے رہے۔پھر مخالفت شروع ہوئی تو کام روکنا پڑا۔یہ ربوہ کے قریب ایک گاؤں ہے۔لیکن بہر حال اللہ تعالیٰ نے ان کو پھل بھی عطا فرمائے۔مکرم مسعود احمد بھٹی صاحب شہید مکرم مسعود احمد بھٹی صاحب شہید ابن مکرم احمد دین صاحب بھٹی۔شہید مرحوم کے آباؤ اجداد کھر پر ضلع قصور کے رہنے والے تھے۔ان کے دادا مکرم جمال دین صاحب نے 1911-12ء میں بیعت کی تھی۔1975ء میں یہ خاندان لاہور شفٹ ہو گیا۔اپنے والد کے ساتھ یہ ٹھیکے داری کا کام کرتے تھے۔میٹرک تک تعلیم حاصل کی۔خدام الاحمدیہ کے بہت دلیر اور جرات مند رکن تھے۔دوسرے دو بھائی بھی ان کے کاروبار میں شریک تھے۔79