شہدائے لاہور کا ذکر خیر

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 77 of 243

شہدائے لاہور کا ذکر خیر — Page 77

مکرم خاور ایوب صاحب شہید مکرم خاور ایوب صاحب شہید ابن مکرم محمد ایوب خان صاحب۔شہید مرحوم کا خاندان گلگت کا رہنے والا تھا۔تا ہم ان کی پیدائش بھیرہ ضلع سرگودھا میں ہوئی۔دسویں تک تعلیم حاصل کرنے کے بعد لاہور آ گئے۔1978ء میں واپڈا میں ملازمت شروع کر دی۔اس وقت اکا ؤنٹ اور بجٹ آفیسر کی حیثیت سے کام کر رہے تھے۔1984ء میں بیعت کر کے احمدیت میں شمولیت اختیار کی۔شہادت کے وقت ان کی عمر 50 سال تھی۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے موصی تھے۔سیکرٹری وقف نو اور محاسب کی حیثیت سے خدمات بجالا رہے تھے۔سابق قائد مجلس انصار اللہ بھی تھے۔دارالذکر میں ان کی شہادت ہوئی۔ایک عرصے سے دارالذکر میں نماز جمعہ ادا کیا کرتے تھے۔سانحہ کے روز بھی ملازمت سے جمعہ پڑھنے کے لئے گئے اور مین ہال میں بیٹھے تھے۔دو گولیاں لگیں ایک دل کے قریب، اور دوسری گھٹنے میں۔قریباً سوا دو بجے گھر فون کیا کہ دہشت گرد آگئے ہیں، ان کے پاس اسلحہ ہے، آپ دعا کریں۔پھر اہلیہ رابطہ کرتی رہیں۔تیسری دفعہ رابطہ ہوا تو یہی کہا کہ بس سب دعا کرو۔اس کے بعد پھر شہید ہو گئے۔اہلیہ کہتی ہیں بڑے اچھے انسان تھے۔باجماعت نماز ادا کرتے تھے۔لوگوں نے ان کے متعلق یہی رائے دی ہے کہ بڑے اچھے انسان تھے اور بڑی انتظامی صلاحیت تھی آپ میں۔بچوں کی تربیت بھی خوب اچھی طرح کی۔حقوق العباد ادا کرنے والے بھی تھے۔خلافت کے وفادار اور شیدائی تھے۔خاور ایوب صاحب کے بارے میں الیاس خان صاحب نے لکھا ہے کہ 1980ء میں خاور ایوب صاحب کو بی اے کے بعد واپڈا میں ملازمت مل گئی۔اور یہ عزیز داری کی بنیاد پر بھیرہ ضلع سرگودھا سے ہمارے گھر رحمان پورہ آ گئے۔ہمارے گھر کا احمدی ماحول تھا۔الیاس خان صاحب کہتے ہیں ہماری تربیت احمدی تعلیمات کے مطابق تھی۔تو خاور ایوب صاحب بھی ہمارے ماحول کا ایک حصہ بن چکے تھے۔مگر احمدی نہیں ہوئے تھے۔البتہ احمدیت کی تعلیم سن کے روایتی اعتراضات جو مولوی کرتے ہیں وہ 77