شہدائے لاہور کا ذکر خیر — Page 76
دعا کرتا ہوں۔بچوں کے لئے بہت محبت تھی۔گھر میں کسی قسم کی غیبت کو نا پسند کرتے اور منع کر دیتے۔اور کوئی بات شروع کرتا تو فوراً روک دیتے۔گوجرانوالہ میں کرائے کے مکان میں رہتے تھے۔تو وہاں کی مالکن جو غیر احمدی تھی وہ شہید مرحوم کے بارے میں کہتی تھیں کہ میری یہ سعادت ہے کہ میاں مبشر صاحب میرے کرایہ دار ہیں اور میں یہ دعا کرتی ہوں کہ اللہ تعالیٰ میرے بچوں کو بھی ان جیسا انسان بنائے اور بھائی جان آپ بھی میرے بچوں کی تربیت کریں۔کاروبار میں اپنے جو ملازمین کام کرنے والے تھے، جب کھانے کا وقت آتا تھا ان کے کھانے وانے کا بڑا خیال رکھتے تھے۔تبلیغ بھی کرتے رہتے تھے۔اہلیہ کہتی ہیں کہ اکثر یہ فقرہ کہا کرتے تھے کہ میں تو نالائق انسان ہوں اللہ تعالیٰ مجھے 33 نمبر دے کر ہی پاس کر دے۔پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے سو فیصد نمبر دے کر شہادت کا رتبہ دے دیا۔مکرم فداحسین صاحب شہید مکرم فداحسین صاحب شہید ابن مکرم بهادر خان صاحب۔ان کا تعلق کھاریاں ضلع گجرات سے ہے۔وہیں پیدا ہوئے۔قریباً چار سال کی عمر میں ہی والدین ایک ماہ کے وقفہ سے وفات پاگئے۔یہ میاں مبشر احمد صاحب جن کا پہلے ذکر آیا ہے ان کے کزن بھی تھے۔اور والدین کی بچپن میں وفات کی وجہ سے میاں مبشر احمد صاحب کے زیر کفالت ہی رہے۔غیر شادی شدہ تھے۔ان کی عمر شہادت کے وقت 69 سال تھی اور انہوں نے دارالذکر میں شہادت کا رتبہ حاصل کیا۔جمعہ کے روز مسجد کے صحن میں معذوری کے پیش نظر تھوڑے سے معذور تھے ، کرسیوں پر بیٹھتے تھے لیکن سانحہ کے روز اندر ہال میں کرسی پر بیٹھے ہوئے تھے کہ دہشتگرد نے جب گولیوں کی بوچھاڑ کی تو آپ کو 35 کے قریب گولیاں لگیں اور موقع پر شہید ہوگئے۔اللہ درجات بلند فرمائے۔76