شہدائے لاہور کا ذکر خیر — Page 66
ہسپتال لے جایا گیا۔بلڈ پریشر بھی نیچے گرتا چلا جا رہا تھا۔جب ہسپتال پہنچے ہیں تو وہاں والدہ کو آنکھیں کھول کر دیکھا اور والدہ سے پانی مانگا۔والدہ جب چہرے پر ہاتھ پھیر رہی تھیں تو ان کی انگلی پر کاٹا صرف یہ بتانے کے لئے کہ میں زندہ ہوں اور پریشان نہ ہوں۔اندرونی کوئی انجری (Injury) تھی جس کی وجہ سے بلیڈنگ ہورہی تھی۔اور آپریشن کے دوران ہی ان کو شہادت کا رتبہ ملا۔ان کے اچھے تعلقات تھے۔واپڈا کے کنٹریکٹر تھے، کنسٹرکشن کے ٹھیکے لیتے تھے۔خدمت خلق کا بہت شوق اور جذبہ تھا شہادت پر آنے والے لوگوں نے بتایا کہ عمیر کا معیار بہت اچھا تھا اور ان کے سامنے کوئی بھی چیز مسئلہ نہیں ہوتی تھی۔اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند فرمائے۔اقبال عابد صاحب مربی سلسلہ عمیر کے بارے میں لکھتے ہیں کہ عمیر احمد ابن ملک عبدالرحیم صاحب دہشتگردانہ حملہ میں اللہ کے پاس چلا گیا۔جب اس کو گولیاں لگی ہوئی تھیں تو اس عاجز کو فون کیا اور کہا مربی صاحب ! خدا حافظ ، خدا حافظ ، خدا حافظ اور آواز بہت کمزور تھی۔پوچھنے پر صرف اتنا بتایا کہ مسجد نور میں حملہ ہوا ہے اور مجھے گولیاں لگی ہوئی ہیں۔گویا وہ خدا حافظ کہنے کے بعد، کہنا چاہتا تھا کہ ہم تو جارہے ہیں لیکن احمدیت کی حفاظت کا بیڑا اب آپ کے سپرد ہے۔ہمارے خون کی لاج رکھ لینا۔انشاء اللہ تعالیٰ ان قربانی کرنے والوں کی قربانی کی لاج پیچھے رہنے والا ہر احمدی رکھے گا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے نام کی عظمت کو دنیا میں قائم کرنے کی ہر ممکن کوشش کرے گا اور کبھی پیچھے نہیں ہٹے گا۔مکرم سردار افتخار الغنی صاحب شہید مکرم سردار افتخار الغنی صاحب شہید ابن مکرم سردار عبدالشکور صاحب۔یہ حضرت فیض علی صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ صحابی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے پڑپوتے تھے۔حضرت فیض علی صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ افریقہ میں حضرت رحمت علی صاحب کے ہاتھ پر احمدی ہوئے۔افریقہ سے واپسی پر امرتسر کی بجائے قادیان میں ہی سیٹ ہو گئے۔شہید نظام 66