شہدائے لاہور کا ذکر خیر

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 65 of 243

شہدائے لاہور کا ذکر خیر — Page 65

نے ان کی کمر پر تھپکی دی اور کہا کہ فکر نہ کرو سب اچھا ہو جائے گا۔اللہ کرے کہ یہ قربانیاں جماعت کے لئے مزید فتوحات کا پیش خیمہ ہوں۔اللہ تعالیٰ جماعت کو خوشیاں دکھائے۔مکرم عمیر احمد ملک صاحب شہید مکرم عمیر احمد ملک صاحب شہید ابن مکرم ملک عبدالرحیم صاحب۔حضرت حافظ نبی بخش صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ صحابی حضرت مسیح موعود علیہ السلام شہید مرحوم کے پردادا تھے۔یہ لوگ قادیان کے قریب فیض اللہ چک کے رہنے والے تھے۔ان کے دادا ملک حبیب الرحمن صاحب جامعہ احمدیہ میں انگلش پڑھانے کے علاوہ سکول اور کالج وغیرہ میں بھی پڑھاتے رہے ہیں۔ٹی آئی سکول کے ہیڈ ماسٹر بھی رہے۔حکیم فضل الرحمن صاحب مبلغ سلسلہ گولڈ کوسٹ ،شہید مرحوم کے والد مکرم عبدالرحیم صاحب کے تایا تھے۔شہید مرحوم خدام الاحمدیہ کے بہت ہی فعال رکن تھے۔سات سال سے ناظم اشاعت ضلع لاہور کے طور پر خدمات سرانجام دے رہے تھے۔اور AACP جو جماعت کی کمپیوٹر پروفیشنلز کی ایسوسی ایشن ہے، اس کے آڈیٹر رہے۔تین سال سے یہ لاہور چیپٹر کے صدر بھی تھے۔نیز ان کی والدہ بھی بطور صدر لجنہ اماء اللہ حلقہ فیصل ٹاؤن خدمات سرانجام دے رہی ہیں۔نظامِ وصیت میں شامل تھے۔شہادت کے وقت ان کی عمر 36 سال تھی۔مسجد ماڈل ٹاؤن میں گولیاں لگیں، زخمی حالت میں جناح ہسپتال پہنچ کر جام شہادت نوش فرمایا۔جمعہ کے روز خلاف معمول نیا سفید جوڑا پہن کر گھر سے نکلے اور والد صاحب نے کہا کہ آج بڑے خوبصورت لگ رہے ہو۔دفتر کے ملازم نے بھی یہی کہا۔مسجد بیت نور میں خلاف معمول پہلی صف میں بیٹھے۔دہشت گرد کی گولی لگنے سے ہال کے اندر دوسری صف میں الٹے لیٹے رہے۔فون پر اپنے والد سے باتیں کرتے رہے۔وہ بھی وہیں تھے اور کہا کہ اللہ حافظ ،میں جارہا ہوں اور مجھے معاف کر دیں۔اپنے بھائی کے بارے میں پوچھا اور پانی مانگا۔ڈائس سے اٹھا کر ایک کارکن نے ان کو پانی دیا۔آواز بہت ضعیف اور کمزور ہوگئی تھی۔بہر حال ایمبولینس کے ذریعے ان کو 65