شہدائے لاہور کا ذکر خیر — Page 59
رو رو کر بتایا کہ ہمیشہ مجھے جھک کر سلام کیا کرتے تھے۔دونوں بھائی اکٹھے ہی ایک دکان کرتے تھے۔چھوٹے بھائی نے ان کو کہا کہ آج مجھے جمعہ پر جانے دو۔تو انہوں نے کہا نہیں اس دفعہ مجھے جانے دو، اگلی دفعہ تم چلے جانا۔ان کی شادی نہیں ہوئی تھی۔والدین جب بھی شادی کے لئے کہتے تو کہتے پہلے چھوٹی بہن کی شادی کرلوں۔اللہ تعالیٰ ان کو اپنی رحمت اور مغفرت کی چادر میں لپیٹے۔مکرم پروفیسر عبدالودود صاحب شہید مکرم پروفیسر عبدالودود صاحب شہید ابن مکرم عبدالمجید صاحب۔یہ حضرت شیخ عبدالحمید صاحب شملوی رضی اللہ تعالیٰ عنہ صحابی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پوتے تھے۔اور گورنمنٹ کالج باغبان پورہ لاہور میں انگلش کے پروفیسر تھے۔جماعتی خدمات میں فعال تھے۔ان کی اہلیہ بھی اپنے حلقہ کی صدر لجنہ اماءاللہ ہیں۔خلافت جو بلی کے موقع پر ان کی کوششوں سے حلقہ میں بہت بڑا جلسہ منعقد ہوا۔بڑے حلیم طبع، ملنسار اور نفیس طبیعت کے مالک تھے۔کلمہ کیس میں اسیر راہ مولیٰ بھی رہے۔سات سال مقدمہ چلتا رہا۔شہادت کے وقت ان کی عمر 55 سال تھی۔انگلش کے پروفیسر تھے۔ایل ایل بی بھی کیا ہوا تھا۔موصوف مجلس انصار اللہ کے انتہائی محنتی اور مخلص کارکن تھے۔نائب زعیم انصار اللہ لاہور چھاؤنی تھے۔خدام الاحمدیہ میں بھی کام کرتے رہے۔کچھ عرصہ صدر حلقہ مصطفی آباد بھی خدمت انجام دی۔موصی تھے اور دارالذکر میں ان کی شہادت ہوئی۔شہید موصوف دہشتگردوں کی فائرنگ کے دوران مربی ہاؤس کی طرف جا رہے تھے کہ ایک دہشتگرد نے سامنے سے گولی چلائی اور موصوف مربی ہاؤس کے دروازے پر شہید ہو گئے۔ان کی اہلیہ بیان کرتی ہیں کہ بہت محبت کرنے والے اور نرم طبیعت کے مالک تھے۔کہتی ہیں کہ شادی کے 23 سالوں میں میرے خاوند نے کبھی کوئی ترش لفظ نہیں بولا۔بچوں سے دو معاملوں میں سختی کرتے تھے۔نماز کے معاملے میں اور گھر میں جاری ترجمۃ القرآن کلاس میں شرکت کے بارے میں۔اور 59