شہدائے لاہور کا ذکر خیر

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 58 of 243

شہدائے لاہور کا ذکر خیر — Page 58

جاتے تھے اور ان کو ایک وقت میں اللہ تعالیٰ سے شکوہ ہو گیا کہ بچے کیوں نہیں دیتا تو الفضل میں ایک خاتون کی تحریر پڑھی کہ جب اللہ مجھے بچے دے گا تو میں تحریک جدید کا چندہ ادا کروں گی۔تو کہتے ہیں یہ پڑھ کر انہوں نے کہا کہ اے اللہ میں آج سے ہی تحریک جدید اور وقف جدید کا چندہ شروع کرتا ہوں تو مجھے بیٹا عطا کر، جس پر میرے خاوند کی پیدائش ہوئی تھی۔ان کی اہلیہ کہتی ہیں ان کی زندگی چندوں ہی کی مرہونِ منت ہے۔شہید مرحوم نے کچھ عرصہ پہلے خود اپنا ایک خواب سنایا کہ حضرت خلیفہ اسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ اپنے بچے مجھے دے دو جس پر آپ نے تمام بچوں کو وقف کر دیا جو وقف نو کی تحریک میں شامل ہیں۔اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند کرے۔مکرم محمد شاہد صاحب شہید مکرم محمد شاہد صاحب شہید ابن مکرم محمد شفیع صاحب۔شہید مرحوم کے دادا مکرم فیروز دین صاحب 1935ء میں احمدی ہوئے۔ضلع کوٹلی آزاد کشمیر کے رہنے والے تھے۔بوقتِ شہادت موصوف کی عمر 28 سال تھی۔اور خدام الاحمدیہ کے بڑے فعال ممبر تھے۔دارالذکر میں ان کی شہادت ہوئی۔جمعہ کے وقت محراب کے ساتھ امیر صاحب کے قریب ان کی ڈیوٹی تھی۔اپنی ڈیوٹی پر کھڑے تھے۔والد صاحب اور دوستوں کو شہادت سے قبل فون کر کے کہا کہ میں ان دہشتگردوں کو پکڑنے کی کوشش کروں گا۔چہرے پر ناخن لگنے کے نشان تھے ایسا لگتا ہے کہ جیسے کسی کے ساتھ لڑائی ہوئی ہو۔شہادت سے چند دن قبل دوستوں سے کہا کہ میرے ساتھ اگر کسی کا لین دین ہو تو مکمل کر لیں۔سگریٹ نوشی کی ان کو بری عادت تھی وہ بھی کئی مہینے پہلے چھوڑ دی تھی۔اور آخری بات بھائی کے ساتھ ہوئی، بڑی دھیمی آواز میں کہا کہ امی کو نہ بتانا وہ پریشان ہوں گی۔نمازوں کے پابند تھے۔ہر جمعہ سے قبل صدقہ دینا معمول تھا اور اب بھی جب جمعہ پڑھنے ڈیوٹی پر مسجد میں آئے ہیں تو ان کی جیب میں سے اس تاریخ کی بھی 50 روپے صدقہ کی رسید نکلی۔علاقے کے چوکیدار نے 58