شہدائے لاہور کا ذکر خیر

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 57 of 243

شہدائے لاہور کا ذکر خیر — Page 57

مکرم شیخ شمیم احمد صاحب شہید مکرم شیخ شمیم احمد صاحب شہید ابن مکرم شیخ نعیم احمد صاحب۔شہید مرحوم حضرت محمد حسین صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ صحابی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے پوتے تھے۔اور حضرت کریم بخش صاحب رضی اللہ عنہ صحابی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے پڑپوتے تھے۔شہید مرحوم کے دادا مکرم شیخ محمد حسین صاحب حلقہ سلطان پورہ کے چالیس سال تک صدر رہے۔ان کے دور میں ہی وہاں مسجد تعمیر ہوئی۔شہید اپنے والدین کے اکلوتے بیٹے تھے۔اور گھر کے واحد کفیل تھے۔شہادت کے وقت ان کی عمر 38 سال تھی۔بینک الفلاح میں ملازمت کرتے تھے۔خدام الاحمدیہ کے بڑے فعال رکن تھے۔آڈیٹر حلقہ الطاف پارک کے طور پر خدمت سر انجام دے رہے تھے۔دارالذکر میں ان کی شہادت ہوئی ہے۔مالی خدمات میں پیش پیش تھے۔اخلاق میں بہت اعلیٰ تھے۔ہمیشہ پیار اور محبت کا سلوک کیا کرتے تھے۔ہر کام بڑی سمجھداری سے کرتے تھے۔ان کے دفتر کے لوگ جو غیر از جماعت تھے، افسوس کرنے آئے تو انہوں نے بتایا کہ ہر وقت ہنستے رہتے تھے اور ہنساتے رہتے تھے۔والدہ بیمار تھیں تو ساری ساری رات جاگ کر خدمت کی۔والد بیمار ہوئے تو ساری ساری رات جاگ کر انہیں سنبھالا۔انہوں نے گھر کے باہر مین گیٹ کے اوپر کلمہ طیبہ لکھوایا ہوا تھا۔مسجد میں جب واقعہ ہوا تھا تو پونے دو بجے اپنے کزن کو فون کیا اور واقعہ کی تفصیل بتائی۔لوگوں نے بعد میں بتایا کہ امیر صاحب کے آگے کھڑے رہے۔دہشتگرد نے ان سے کہا کہ تیرے پیچھے کون ہے؟ تو انہوں نے کہا کہ میری بیوی، میرے بچے اور میرا خدا تو دہشتگر دنے کہا کہ چل پھر اپنے خدا کے پاس اور گولیاں برسا دیں۔اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند فرمائے۔ان کی والدہ کہتی ہیں میرا بیٹا بہت پیارا تھا۔میرا بڑا خیال رکھتا تھا۔ہر خوبی کا مالک تھا، ہر کسی کے کام آتا تھا۔اہلیہ نے بتایا کہ میرے خسر بیان کرتے ہیں کہ ان کے بچے فوت ہو 57