شہدائے لاہور کا ذکر خیر — Page 42
ہوں۔مربی صاحب نے کہا یہ ہے ان کا اصل مطلب۔اس لئے ہم پر تو آپ رحم کریں اور ہمیں کسی سفارش پر مجبور نہ کریں اور نہ ہی ہم ایسا کریں گے۔تو کہتے ہیں بہر حال وہ صاحب بڑے پریشان تھے کہ اگر اس نے مجھے ٹانگ دیا تو پھر کیا ہوگا ؟ تو میں نے کہا آپ کے کہنے کے مطابق اگر آپ بے قصور ہیں تو آپ کو یقین دلاتے ہیں کہ صرف مذہبی اختلافات کی بنیاد پر آپ کو سزا نہیں دیں گے۔اس کے بعد ان کے ہاں سے چلے آئے۔پانچ چھ مہینے کے بعد ان کے پی اے (P۔A) کا فون آیا اور اطلاع دی کہ وہ باعزت طور پر بری ہو گئے ہیں اور ہمارے وہ عالم صاحب جو لیڈر ہیں جمیعت علمائے اسلام کے آپ لوگوں کا شکر یہ ادا کر رہے ہیں۔میں نے عرض کیا کہ ان سے کہیں کہ ہمارا شکر یہ ادا کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔شکر یہ ادا کریں اس امام مہدی آخر الزمان کا ، جس کی تعلیمات اور قوت قدسیہ کے فیض نے ایسی جماعت پیدا کر دی ہے جو ان اخلاق کو زندہ کرنے والی ہے جو آج دنیا سے نا پید ہیں۔تو یہ تھا ان کے انصاف کا معیار۔اور بڑے دبنگ ، جرات والے انسان تھے۔گزشتہ سال جب میں نے ان کو امیر جماعت لاہور مقرر کیا ہے تو انہیں لکھا کہ اگر کوئی مشکل ہو براہ راست رہنمائی لینی چاہتے ہوں تو بے شک لے لیا کریں اور بے شک مجھ سے رابطہ رکھیں۔ایک دن ان کا فون آیا تو میں نے کہا کہ خیر ہے؟ تو کہنے لگے کہ اس اجازت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے جو آپ نے دی ہے میں نے کہا فون کر لوں اور اگر کوئی ہدایت ہو تو لے لوں۔باقی کام تو صحیح چل رہے ہیں۔اور آپ سے سلام بھی کرلوں۔تو بڑے منجھے ہوئے شخص تھے۔سب جو کارکنان تھے، ان کے ساتھ کام کرنے والے ان کو ساتھ لے کر چلنے والے تھے۔لجنہ ضلع لاہور کی صدر نے مجھے بتایا کہ جب یہ مقرر ہوئے ہیں تو ہمیں خیال تھا کہ یہ کس شخص کو آپ نے امیر جماعت مقرر کر دیا ہے جس کو زیادہ تر لوگ جانتے بھی نہیں۔لیکن ان کے ساتھ کام کرنے سے پتہ چلا کہ یقیناً انہوں نے اپنی ذمہ داری کا حق ادا کر دیا اور بڑے پیار سے ساروں کو ساتھ لے کر چلے۔بے شمار خصوصیات کے حامل تھے۔اللہ تعالیٰ اپنے پیاروں میں ان کو جگہ دے۔42