شہدائے لاہور کا ذکر خیر

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 33 of 243

شہدائے لاہور کا ذکر خیر — Page 33

ہیں، جنہوں نے ملک کا سکون برباد کیا ہوا ہے۔اللہ تعالیٰ ہر احمدی کو ہر شر سے محفوظ رکھے۔ایک بات اور کہنا چاہوں گا۔ایک احمدی نے بڑے جذباتی انداز میں ایک خط لکھا لیکن اس سوچ پہ مجھے بڑی حیرت ہوئی، کیونکہ پڑھے لکھے بھی ہیں جماعتی خدمات بھی کرنے والے ہیں۔ایک فقرہ یہ تھا کہ دشمن نے کیسے کیسے ہیرے مٹی میں رول دیئے“۔یہ بالکل غلط ہے۔یہ ہیرے مٹی میں رولے نہیں گئے۔ہاں دشمن نے مٹی میں رولنے کی ایک مذموم کوشش کی لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کی اہمیت پہلے سے بھی بڑھا دی اور ان کو اٹھا کر اپنے سینے سے لگالیا۔ان کو دائمی زندگی سے نوازا۔اس ایک ایک ہیرے نے اپنے پیچھے رہنے والے ہیروں کو مزید صیقل کر دیا۔ان جانے والے ہیروں کو اللہ تعالیٰ نے ایسے چمکدار ستاروں کی صورت میں آسمانِ اسلام اور احمدیت پر سجا دیا جس نے نئی کہکشائیں ترتیب دے دی ہیں اور ان کہکشاؤں نے ہمارے لئے نئے راستے متعین کر دیئے۔ان میں سے ہر ہر ستارہ جب اس سے علیحدہ ہو کے بھی ہمارے لئے قطب ستارہ بن جاتا ہے۔پس ہمارا کوئی بھی دشمن کبھی بھی اپنی مذموم اور قبیح کوشش میں کامیاب نہیں ہوسکتا۔اور ہر شہادت بڑے بڑے پھل پیدا کرتی ہے، بڑے بڑے مقام حاصل کرتی ہے۔اللہ تعالیٰ ان سب شہیدوں کے درجات بلند سے بلند تر کرتا چلا جائے ، اور ہم بھی ہمیشہ استقامت کے ساتھ دین کی خاطر قربانیاں دیتے چلے جانے والوں میں سے ہوں۔شہداء کا ذکر بھی کرنا چاہتا تھا لیکن یہ تو ایک لمبی بات ہو جائے گی۔آئندہ انشاء اللہ مختصر ذکر کروں گا کیونکہ تقریباً 85 شہداء ہیں مختصر تعارف بھی کروایا جائے تو کافی وقت لگتا ہے۔جمعہ کے بعد انشاء اللہ تعالیٰ ان کی نماز جنازہ بھی پڑھاؤں گا۔اسی دوران گزشتہ دنوں اس واقعہ کے دو تین دن کے بعد نارووال میں ہمارے ایک احمدی کو شہید کر دیا گیا۔ان کا نام نعمت اللہ صاحب تھا اور اپنے گھر میں سوئے ہوئے تھے۔صحن میں آ کر چھریوں کا وار کر کے ان کو شہید کیا۔ان کا بڑا بیٹا بچانے کے لئے آیا تو اس کو بھی زخمی کر دیا۔وہ ہسپتال میں ہے۔اللہ تعالیٰ اس کو بھی شفا عطا فرمائے اور مرحوم کے 33