شہدائے لاہور کا ذکر خیر — Page 24
ہے جس سے خدا ملتا ہے۔یہی وہ چیز ہے جس کی رسولوں اور نبیوں اور صدیقوں اور شہیدوں کی خاک سے اب تک خوشبو آ رہی ہے“۔(اسلامی اصول کی فلاسفی۔روحانی خزائن جلد نمبر 10 صفحہ 419-420) آج ہمارے شہداء کی خاک سے بھی یقیناً یہ خوشبو آ رہی ہے جو ہمارے دماغوں کو معطر کر رہی ہے۔ان کی استقامت ہمیں پکار پکار کر کہ رہی ہے کہ جس استقامت اور صبر کا دامن تم نے پکڑا ہے، اسے کبھی نہ چھوڑنا۔یقین اللہ تعالیٰ اپنے وعدوں کا سچا ہے۔ابتلا کا لمبا ہونا تمہارے پائے استقلال کو ہلا نہ دے۔کہیں کوئی ناشکری کا کلمہ تمہارے منہ سے نہ نکل جائے۔ان شہداء کے بارے میں تو بعض خواہیں بھی بعض لوگوں نے بڑی اچھی دیکھی ہیں۔خوش خوش جنت میں پھر رہے ہیں۔بلکہ ان پر تم نے سجائے جارہے ہیں۔دنیاوی تمغے تو لمبی خدمات کے بعد ملتے ہیں یہاں تو نو جوانوں کو بھی نو جوانی میں ہی خدمات پر تمغے مل رہے ہیں۔پس ہمارا رونا اور ہما راغم خدا تعالیٰ کے حضور ہے اور اس میں ہمیں کبھی کمی نہیں ہونے دینی چاہئے۔آپ لاہور کے وہ لوگ ہیں جن کے بارے میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو یہ الہام ہوا تھا کہ لاہور میں ہمارے پاک ممبر موجود ہیں“۔(الہام 13 دسمبر 1900ء) اور لاہور میں ہمارے پاک محب ہیں“۔(البام 13 دسمبر 190 ء ) پس یہ آپ لوگوں کا اعزاز ہے جسے آپ لوگوں نے قائم رکھنے کی کوشش کرنی ہے۔خدا تعالیٰ کی رضا کوصبر اور دعا سے حاصل کرنے کی کوشش کرنی ہے۔اور پھر اس تعلق میں بہت سی خوشخبریاں بھی اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو بتائی ہیں۔پس خوش قسمت ہیں آپ جن کے شہر کے نام کے ساتھ خوشخبریاں وہاں کے رہنے والوں کو اللہ تعالیٰ نے اپنے پاک مسیح علیہ السلام کے ذریعہ دی ہیں۔دشمن نے تو میرے نزدیک صرف جانی نقصان پہنچانے کے لئے یہ حملہ نہیں کیا تھا، بلکہ اس کے ساتھ ساتھ اور بھی مقصد تھے۔ایک تو خوف پیدا کر کے اپنی نظر میں ، اپنے خیال میں کمزور احمدیوں کو احمدیت سے دور کرنا تھا، نو جوانوں میں بے چینی پیدا کرنی تھی۔لیکن نہیں جانتے کہ یہ ان ماؤں کے بیٹے ہیں جن کے خون میں ، جن کے دودھ میں جان ، مال ، وقت، 24