شہدائے لاہور کا ذکر خیر

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 10 of 243

شہدائے لاہور کا ذکر خیر — Page 10

بددعائیں دینے کے لئے سجدے کرو اور ناکیں رگڑ لو۔تمہاری ناکیں جل جائیں گی لیکن تم مجھے کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتے۔(ماخوذ از اربعین نمبر 3 روحانی خزائن جلد 17 صفحہ 400) پھر فرماتے ہیں:۔" کیونکہ یہ تکبر اس کی راہ میں روک ہو جاتا ہے۔پس کسی طرح سے بھی تکبر نہیں کرنا چاہئے۔علم کے لحاظ سے نہ دولت کے لحاظ سے نہ وجاہت کے لحاظ سے، نہ ذات اور خاندان اور حسب نسب کی وجہ سے۔کیونکہ زیادہ تر تکبر انہیں باتوں سے پیدا ہوتا ہے۔جب تک انسان اپنے آپ کو ان گھمنڈوں سے پاک وصاف نہ کرے گا اس وقت تک وہ اللہ جل شانہ کے نزدیک پسندیدہ و برگزیدہ نہیں ہوسکتا اور وہ معرفت الہی جو جذبات نفسانی کے موادر ڈیہ کو جلا دیتی ہے اس کو عطا نہیں ہوتی۔یہ کھو کھلے علم جو ہیں یہ صرف کھو کھلے علم ہی رہتے ہیں ان کو معرفت نہیں مل سکتی۔فرمایا : ” کیونکہ یہ گھمنڈ شیطان کا حصہ ہے اس کو اللہ تعالی پسند نہیں کرتا۔شیطان نے بھی یہی گھمنڈ کیا اور اپنے آپ کو آدم علیہ السلام سے بڑا سمجھا اور کہہ دیا أَنَا خَيْرٌ مِّنْهُ - خَلَقْتَنِى مِنْ نَّارٍ وَخَلَقْتَهُ مِنْ طِيْنِ - (الاعراف:13 ) ( میں اس سے اچھا ہوں تو نے مجھ کو آگ سے پیدا کیا، اس کو مٹی سے ) نتیجہ اس کا یہ ہوا کہ بارگاہ الہی سے مردود ، ہو گیا۔اس لئے ہر ایک کو اس سے بچنا چاہئے۔جبتک انسان کو کامل معرفتِ الہی حاصل نہ ہو وہ لغزش کھاتا ہے اور اس سے متنبہ نہیں ہوتا مگر معرفتِ الہی جس کو حاصل ہو جائے اگر چہ اس سے کوئی لغزش ہو بھی جاوے تب بھی اللہ تعالیٰ اس کی محافظت کرتا ہے۔پس یہ جو انبیاء کے مخالفین ہوتے ہیں یہی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے مخالفین ہیں۔یہ ان کا تکبر ہے اور یہ کبھی بھی اللہ تعالیٰ کی حفاظت میں نہیں رہ سکتے بلکہ شیطان کی گود میں گرتے چلے جاتے ہیں۔فرمایا: ” چنانچہ آدم علیہ السلام نے اپنی لغزش پر اپنی کمزوری کا اعتراف کیا اور سمجھ لیا کہ سوائے فضل الہی کے کچھ نہیں ہو سکتا۔اس لئے دعا کر کے وہ اللہ تعالیٰ کے فضل کا وارث ہوا۔رَبَّنَا ظَلَمْنَا أَنْفُسَنَا وَإِنْ لَّمْ تَغْفِرْلَنَا وَتَرْحَمْنَا لَنَكُونَنَّ مِنَ الْخَسِرِينَ (الاعراف:24) 10