شہدائے لاہور کا ذکر خیر

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 9 of 243

شہدائے لاہور کا ذکر خیر — Page 9

تلاش کے باوجود ان کو حق پہچاننے کی توفیق عطا فرمائی اور انہوں نے بیعت کر لی۔(الفضل انٹرنیشنل مورخہ 28 مئی 2010ء صفحہ 34) تو اس طرح کے واقعات بے شمار ہیں۔آج کل بھی ہوتے ہیں۔کچھ لوگوں کو اللہ تعالیٰ خوابوں کے ذریعہ سے دکھاتا ہے۔اب خوابوں کے ذریعے سے جو پیغام پہنچتا ہے اس میں تو کسی انسان کا ہاتھ نہیں ہوتا۔تو یہ سب اس کی تائید میں ان فرشتوں کی ایک ہلچل ہے جو سارے نظام میں مچی ہوئی ہوتی ہے جو اللہ تعالیٰ اپنے فرستادے کے لئے ظاہر کر رہا ہوتا ہے۔اور پھر اس طرح سے جو سعید فطرت ہیں وہ حق کی طرف آتے چلے جاتے ہیں لیکن دوسری طرف شیطان کے قدموں پر چلنے والے مخالفت میں بڑھتے چلے جاتے ہیں۔وہ روکیں ڈالتے ہیں اور ان کے پیچھے ان کا وہ تکبر کام کر رہا ہوتا ہے جس کی اللہ تعالیٰ نے نشاندہی فرمائی تھی جو انہیں ملائکہ کے زمرہ سے نکال کر بغاوت پر آمادہ کرتے ہیں اور شیطان کے پیچھے چلنے پر مجبور کرتے ہیں۔پس اللہ تعالیٰ کے بندے تو خدائی صفات کا پر تو بنتے ہیں اور ان کا خدا تعالیٰ سے تعلق بڑھتا چلا جاتا ہے۔روحانی ترقی میں بھی ان کے قدم بڑھتے ہیں۔اور اس طرح دنیاوی اور مادی معاملات میں بھی خدا تعالیٰ کی رضا کو پیش نظر رکھتے ہوئے وہ ترقی کرتے چلے جاتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس کی جو تفسیر ایک جگہ فرمائی ہے یہ میں ابھی آپ کے سامنے رکھتا ہوں۔آپ فرماتے ہیں:۔تکبر ایسی بلا ہے کہ انسان کا پیچھا نہیں چھوڑتی۔یا درکھو! تکبر شیطان سے آتا ہے اور تکبر کرنے والے کو شیطان بنا دیتا ہے۔جب تک انسان اس راہ سے قطعاً دور نہ ہو قبول حق و فیضانِ الوہیت ہر گز پا نہیں سکتا۔(بحوالہ تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام جلد 2 صفحہ 520 سورۃ الاعراف زیر آیت 13) یعنی اللہ تعالیٰ کا جو حق کا پیغام ہے وہ اس کو کبھی قبول نہیں کرتا۔اور اللہ تعالیٰ کے جو فیض ہیں ان سے استفادہ نہیں کر سکتا۔اور یہ سب اس مخالفت کا نتیجہ ہے جو انبیاء کی کی جاتی ہے۔چاہے جتنی بھی عبادتیں ہوں، جتنے بھی سجدے ہوں وہ کوئی فائدہ نہیں دے رہے ہوتے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے:۔” تم میری مخالفت میں اور مجھے 9