شہدائے لاہور کا ذکر خیر — Page 200
(تذکرة الشهادتين ، روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 76-75) پھر اپنے ایک کشف کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ ” ہمارے باغ میں سے ایک بلند شاخ سرو کی کائی گئی اور میں نے کہا کہ اس شاخ کو زمین میں دوبارہ نصب کر دو تا وہ بڑھے اور پھولے۔اس کشف کو حضرت صاحبزادہ سید عبداللطیف شہید کے واقعہ پر محمول کرتے ہوئے آپ نے فرمایا کہ ” سو میں نے اس کی یہی تعبیر کی کہ خدا تعالیٰ بہت سے ان کے قائم مقام پیدا کر دے گا۔سو میں یقین رکھتا ہوں کہ کسی وقت میرے اس کشف کی تعبیر ظاہر ہو جائے گی“۔پس جو مالی اور جانی قربانیاں کرتے ہوئے اپنے عہد بیعت کو نبھا گئے وہ بے شک اسی کشف کے مصداق اور اس شاخ کے بغل بچے ہیں جو حضرت صاحبزادہ عبداللطیف صاحب شہید کی صورت میں زمین میں گاڑی گئی تھی۔یہ تو خدا تعالیٰ کے علم میں ہے کہ کس کو اس نے شہادت کا درجہ دینا ہے اور کس سے کسی اور رنگ میں کام لینا ہے۔لیکن آج ہم میں سے ہر ایک کا کام ہے کہ اپنے عہد بیعت کو نبھاتے ہوئے اپنے اندر وہ انقلاب عظیم پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کے مقرب بنیں جو انقلاب زمانے کے منادی ہم میں روحانی طور پر پیدا کرنا چاہتے تھے۔جو روحانی انقلاب اور مسیح محمدی سے تعلق حضرت صاحبزادہ سید عبداللطیف صاحب شہید نے دکھایا تھا وہ ہمیں پیدا کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللهِ کے کلمے کی عملی تصویر بننے کے لئے اپنی تمام تر کوششیں بروئے کار لانی چاہئیں۔ورنہ رَبَّنَا إِنَّنَا سَمِعْنَا مُنَادِيًا يُنَادِي (آل عمران:194) کا نعرہ بے فائدہ ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ہم سے کیا چاہتے ہیں؟ ہمارا ایمان کامل کرنے کے لئے آپ نے کیا طریق بتائے ہیں؟ یہاں کچھ ذکر کرتا ہوں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ سب سے بنیادی چیز ایک مومن کے ایمان کے لئے اللہ تعالیٰ پر ایمان ہے۔اور یہ ایمان اس وقت تک اعلیٰ درجے تک نہیں پہنچتا جب تک خدا تعالیٰ سے بے غرض محبت نہ ہو۔(ماخوذ از ملفوظات جلد سوم صفحہ 508 جدید ایڈیشن مطبوعہ ربوہ ) 200