شہدائے لاہور کا ذکر خیر

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 8 of 243

شہدائے لاہور کا ذکر خیر — Page 8

دیکھا جو باقاعدہ نمازیں پڑھتا ہے تو خیال ہوا بہائی تو نہیں ہوسکتا۔پھر اور بعض فرقوں کی طرف دھیان گیا۔پھر میں نے آہستہ آہستہ اس سے تعلق پیدا کرنا شروع کیا تو دیکھا کہ وہ نوجوان یعنی مصطفیٰ ثابت صاحب اسلام کے جو نظریات پیش کرتا تھا اور جو دلیلیں دیتا تھا وہ ایسی ہوتی تھیں کہ میرے پاس جواب ہی نہیں ہوتا تھا۔علماء سے بھی میں جواب مانگتا لیکن تسلی نہیں ہوتی تھی۔ایک موقع ایسا آیا کہ مجھے وہاں سے کام چھوڑ کے آنا پڑا اور انہوں نے اپنی کتابوں کا بکس میرے سپرد کر دیا کہ یہ لے جاؤ۔تو میں نے کہا کہ اس شرط پہ لے جاؤں گا کہ یہ کتا بیں میں پڑھوں۔اس میں میں نے قرآنِ کریم کی تفسیر جو فائیو والیم میں ہے وہ اور بعض اور کتب پڑھیں ، اسلامی اصول کی فلاسفی پڑھی۔تو کہتے ہیں کہ ہر کتاب کو پڑھ کے جس طرح غیر از جماعت علماء کی اور پڑھے لکھوں کی بھی عادت ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتب میں اعتراض تلاش کرنا اور آج کل پاکستان میں یہ اعتراض کی صورت بڑی انتہاء پر گئی ہوئی ہے کتابیں نکال نکال کر اس پر اعتراض کرتے ہیں اور یہ اعتراض کرنے والا جس طرح کے بودے اعتراض کر رہا ہوتا ہے اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ اس کی کم علمی ہے اور فطرت صحیحہ کی بجائے وہ شیطان کے پیچھے چلنے والے لوگ ہیں۔بہر حال یہ کہتے ہیں کہ میں بھی اعتراض تلاش کرتا تھا۔اور اعتراض نکالنے کے بعد جب میں علماء سے تسلی کروانے جاتا تھا تو وہاں میری تسلی نہیں ہوتی تھی۔پھر کہتے ہیں میں نے اسلامی اصول کی فلاسفی پڑھی تو اس نے میرے دل میں ایک ہلچل مچادی۔میں نے اپنے والد صاحب کو بھی سنائی تو میں نے کہا یہ کیسا ہے؟ لکھنے والا کون شخص ہو سکتا ہے؟ تو انہوں نے کہا کہ اس کتاب کا لکھنے والا یقیناً کوئی ولی اللہ ہے۔اس پر میں نے کہا اگر یہ مسیح موعود کا دعویٰ کر رہا ہو تو پھر ؟ تو سوچ میں پڑ گئے اور کہا کہ ٹھیک ہے۔بہر حال میں اس پر کوئی اعتراض نہیں کر سکتا کیونکہ ایسی اعلی پائے کی چیز اللہ تعالیٰ کا کوئی انتہائی مقرب ہی لکھ سکتا ہے۔لیکن میں تو اب بوڑھا ہو رہا ہوں اس لئے مذہب کے معاملے میں پکا ہو چکا ہوں تو میں تو قبول نہیں کر سکتا۔لیکن بہر حال حلمی شافعی صاحب کے دل میں آہستہ آہستہ تبدیلیاں پیدا ہوئیں۔وہ سعید فطرت تھی جس نے اعتراضوں کی