شہدائے لاہور کا ذکر خیر

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 164 of 243

شہدائے لاہور کا ذکر خیر — Page 164

مکرم حسن خورشید اعوان صاحب شہید اگلا ذکر ہے مکرم حسن خورشید اعوان صاحب شہید ابن مکرم ملک خورشید اعوان صاحب کا۔شہید مرحوم کا تعلق بند پال ضلع چکوال سے تھا۔ان کے والد اور دادا پیدائشی احمدی تھے۔تا ہم کچھ عرصہ قبل ان کی فیملی کے دیگر افراد نے کمزوری دکھاتے ہوئے ارتداد اختیار کرلیا جبکہ شہید مرحوم بفضلہ تعالٰی شہادت کے وقت تک جماعت سے وابستہ رہے۔ان کے ایک اور بھائی مکرم سعید خورشید اعوان صاحب جو جرمنی میں ہیں، انہوں نے بھی جماعت کے ساتھ وابستگی رکھی۔شہادت کے وقت ان کی عمر 24 سال تھی۔غیر شادی شدہ تھے۔اور مسجد دارالذکر میں جام شہادت نوش فرمایا۔سانحہ کے روز دارالذکر میں نماز جمعہ ادا کرنے گئے۔دہشتگردوں کے آنے پر گھر فون کر کے بتایا کہ مسجد پر حملہ ہو گیا ہے، میں زخمی ہوں دعا کریں۔اسی دوران دہشتگردوں کی فائرنگ سے شہید ہو گئے۔ان کے فیملی کے غیر از جماعت ممبران ان کے احمدی ہونے کے بارے میں اعتراضات کرتے رہے جس پر ان کے والدین ان کے دباؤ میں آگئے اور اطلاع دی کہ اگر احمدی احباب نے نماز جنازہ پڑھی تو علاقے میں فساد پھیل جائے گا۔یہاں پر ختم نبوت والے( نام نہاد ختم نبوت والے کہنا چاہئے ) کافی ایکٹو (Active) ہیں۔انہی وجوہات کی بنا پر احمدی احباب کو نماز جنازہ ادانہ کرنے دی گئی۔غیر از جماعت نے ہی نماز جنازہ پڑھی اور تدفین کی۔تاہم علاقے میں عام لوگ مجموعی طور پر اس امر پر افسوس کا اظہار کرتے رہے۔شہید کے والد پہلے تو مخالفت کے باعث کوائف دینے سے انکار کرتے رہے، جس پر سمجھایا گیا کہ آپ کے بیٹے نے جان دے کر پیغام دیا ہے کہ دنیاوی لوگوں سے خوف نہ کھائیں، خواہ جان ہی کیوں نہ چلی جائے۔شہید مرحوم کی قربانیوں کو چھپانا شہید کے ساتھ زیادتی ہے لیکن پھر بھی انہوں نے کوئی کوائف نہیں دیئے۔اللہ تعالیٰ شہید کے درجات بلند فرمائے۔اور ان کی یہ قربانی ان کے گھر والوں کی بھی آنکھیں کھولنے کا باعث بنے۔164