شہدائے لاہور کا ذکر خیر

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 118 of 243

شہدائے لاہور کا ذکر خیر — Page 118

بیمار ر ہے۔ان کی وفات تک علالت میں ان کی بہت خدمت کی۔اسی طرح والدہ صاحبہ بھی بیمار ہیں۔ان کی بے پناہ خدمت کرتے تھے۔چندہ جات اور مالی تحریکات میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے۔صدقہ و خیرات عمومی طور پر چھپا کر کرتے۔اپنے آبائی علاقے سرگودھا کے بہت سارے مریضوں کو لاہور لا کر مفت علاج کرواتے تھے۔قربانی کا بہت جذبہ تھا۔نماز کے پابند ، قرآن باقاعدگی سے پڑھتے۔گھر والوں نے کہا کہ رات اڑھائی تین بجے ، ان کو تہجد پڑھتے اور قرآن پڑھتے دیکھا ہے۔شہید مرحوم کی والدہ محترمہ نے بتایا کہ میں شہید مرحوم کے والد صاحب مرحوم کو کچھ عرصہ خواب میں مسلسل دیکھ رہی تھی۔شہید کی ایک خادمہ نے بتایا کہ شہادت سے چند دن قبل والدہ کے لئے چارسوٹ لے کر آئے تو والدہ نے کہا کہ میرے پاس تو پہلے ہی بہت سوٹ ہیں۔تو انہوں نے کہا کہ ماں پتہ نہیں کب تک میری زندگی ہے آپ میرے لائے ہوئے سوٹ پہن لیں۔مکرم مرز اظفر احمد صاحب شہید اگلا ذکر ہے مکرم مرز اظفر احمد صاحب شہیدا ابن مکرم مرز اصفدر جنگ ہمایوں صاحب کا۔شہید مرحوم اکتوبر 1954ء میں منڈی بہاء الدین میں پیدا ہوئے۔خاندان میں احمدیت کا آغاز حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دور خلافت میں ان کے دادالکرم مرز اند بی احمد صاحب کے ذریعے سے ہوا۔مرزا نذیر احمد صاحب نے خلیفہ اسیح الثانی کی بیعت کی۔میٹرک لاہور سے کیا اس کے بعد لائلپور یونیورسٹی سے دو سال تعلیم حاصل کی۔ہوٹل میں بعض مشکلات کی بنا پر یونیورسٹی چھوڑ دی اور کراچی چلے گئے۔جہاں سے مکینکس میں تین سالہ ڈپلومہ کیا۔بعد ازاں مزید ایک سال کا کورس کیا۔اپنے شعبہ سے متعلق ایک ملازمت کراچی میں کی۔اس کے بعد جاپان چلے گئے۔1981ء سے سولر انرجی میں انجینئر کی حیثیت سے 21 سال جاپان میں مقیم رہ کر کام کیا۔وہاں جماعتی خدمات کی توفیق پائی۔جاپان میں ٹوکیومشن بند ہوا تو آپ کا گھر بطور مشن ہاؤس استعمال ہوتا تھا۔1983ء میں 118