شہدائے لاہور کا ذکر خیر — Page 114
چوہدری نثار احمد صاحب ہیں۔شہید مرحوم کے دادا مکرم چوہدری محمد بوٹا صاحب آف بھینی محرمه ضلع گورداسپور میں 1935ء میں بیعت کی تھی۔ان کے دادا اکیلے احمدی ہوئے تھے اور سارا گاؤں مخالف تھا۔ان کی دادا کی وفات کے وقت مولویوں نے شور مچایا اور ان کی قبر کشائی کی گئی جس کی وجہ سے ان کی تدفین ان کی زمینوں میں کی گئی۔پارٹیشن کے بعد یہ خاندان ساہیوال کے ایک چک میں آ گیا۔اور 1972ء میں ان کے والد صاحب لاہور آ گئے۔بوقتِ شہادت شہید امتیاز احمد کی عمر 34 سال تھی۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے موصی تھے ، معاون قائد ضلع، ناظم تربیت نو مبائعین ضلع، سابق ناظم اطفال اور سیکرٹری اشاعت ڈیفنس خدمت کی توفیق پارہے تھے۔ان کی شہادت بھی مسجد دارالذکر میں ہوئی ہے۔مسجد دارالذکر کے مین گیٹ پر دائیں جانب ان کی ڈیوٹی تھی۔دہشتگر دوں نے جب حملہ کیا تو یہ بھاگ کر ان کو پکڑنے کے لئے گئے۔اس دوران فائرنگ کے نتیجے میں زخمی ہو گئے۔سر اور سینے میں گولیاں لگیں جس کے نتیجہ میں سانحہ کے اولین شہداء میں شامل ہو گئے۔بہر حال جماعتی خدمات میں پیش پیش تھے ، شوری کے نمائندے بھی رہے، بچپن سے ہی اطفال کے کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے تھے۔صد سالہ جشنِ تشکر کے سلسلہ میں اپنے حلقہ میں نمایاں خدمت کی توفیق ملی۔سکیورٹی کی ڈیوٹی بڑی عمدگی سے ادا کرتے تھے۔عموماً گیٹ کے باہر ڈیوٹی کرتے تھے۔نمازوں کی ادائیگی میں با قاعدہ تھے۔اپنے دونوں بچوں کو وقف نو کی با برکت تحریک میں شامل کیا ہوا تھا۔جماعتی عہدیداران کا بہت احترام کیا کرتے تھے۔لیڈر شپ کی کوالیٹیز (Qualities) تھیں۔وقف کرنے کی بہت خواہش تھی۔اور ڈیوٹی کا کام بھی اپنے آپ کو وقف سمجھ کر کیا کرتے تھے۔ان کی ڈائری کے پہلے صفحے پر لکھا ہوا ملا ( بعد میں انہوں نے دیکھا ) کہ بُزدل بار بار مرتے ہیں اور بہادر کو صرف ایک بارموت آتی ہے۔پھر ان کی ایک بہن امریکہ میں رہتی ہیں۔پاکستان کچھ عرصہ پہلے آئی ہوئی تھیں، انہوں نے کہا کہ میری ڈائری میں کچھ لکھ دیں۔تو اس پر شہید نے یہ شعر لکھا کہ یہ ادا عشق و وفا کی ہم میں اک مسیحا کی دعا سے آئی 114