شہدائے لاہور کا ذکر خیر

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 92 of 243

شہدائے لاہور کا ذکر خیر — Page 92

لئے کبھی بھی نہیں مارا۔اور یہی لڑکے کہتے ہیں کہ مجھے یہ فلسفہ سمجھاتے تھے کہ بچوں کے لئے دعا کرنی چاہئے۔یہی ان کی ہمدردی ہے۔اور مار پیٹ سے تربیت نہیں ہوتی۔کہتے ہیں کہ جب بھی رات کو میری آنکھ ھلتی میں نے رو رو کر ان کو اپنی اولاد کے لئے دعائیں کرتے ہوئے ہی دیکھا ہے۔1974ء میں لڑکے کہتے ہیں کہ ہم سیٹلائٹ ٹاؤن گوجرانوالہ میں تھے۔حالات خراب ہونے پر کافی احمدی احباب ہمارے گھر جمع ہو گئے۔اور ڈیڑھ دو ماہ ان کا کیمپ ہمارے گھر کے پاس تھا۔چنانچہ ان سب کی بہت خدمت کی، بہت دیانتدار تھے۔جھوٹ تو منہ سے نکلتا ہی نہیں تھا۔ہمیشہ سچ بولا اور سچ کا ساتھ دیا اور سارے خاندان کی کہہ کر وصیت کروائی۔مکرم شیخ ساجد نعیم صاحب شهید مکرم شیخ ساجد نعیم صاحب شہید ابن مکرم شیخ امیر احمد صاحب۔شہید مرحوم کے آبا و اجداد کا تعلق بھیرہ سے تھا۔انہوں نے لاہور سے بی۔اے کیا۔راولپنڈی میں ایم سی بی بینک میں گریڈ تھرڈ کے افسر بھرتی ہوئے۔اور 2003 ء میں بطور مینیجر ریٹائر منٹ لی۔بچے چونکہ لا ہور میں تھے اس لئے لاہور آ گئے۔مکرم شیخ محمد یوسف قمر صاحب امیر ضلع قصور کے برادرِ نسبتی تھے۔شہید مرحوم مجلس انصار اللہ کے بہت ہی ذمہ دار رکن تھے۔اور بطور نائب منتظم تعلیم القرآن خدمت کی توفیق پارہے تھے۔بوقت شہادت ان کی عمر 59 سال تھی۔نظام وصیت میں شمولیت کے لئے درخواست دی ہوئی تھی۔مسل نمبر مل چکا تھا۔مسجد بیت النور میں ان کی شہادت ہوئی۔نماز جمعہ کے لئے وقت سے پہلے ہی گھر سے نکل جاتے اور نماز بہت سنوار کر پڑھتے۔عموماً اپنی جگہ بیت النور کے دوسرے ہال میں بیٹھے ہوئے تھے۔فائرنگ شروع ہونے کے پندرہ بیس منٹ کے بعد اپنے بیٹے شہزاد نعیم کو فون کیا کہ تم ٹھیک ہو؟ وہ ٹھیک تھا اور بتایا کہ ہم لوگ مسجد میں ہی ہیں۔دیگر ساتھیوں کے ساتھ ہال کے مین دروازے کو بند کیا اور اس کے آگے کھڑے رہے، کیونکہ اس دروازے کی کنڈی صحیح طرح نہیں لگ رہی تھی۔اس وجہ سے ہال میں موجود اکثر لوگ بیسمینٹ میں جانے میں کامیاب ہو گئے۔دہشتگرد کے 92