شہدائے لاہور کا ذکر خیر

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 78 of 243

شہدائے لاہور کا ذکر خیر — Page 78

کرتے رہتے تھے۔یہاں تک کہ ہم ان کو چھیڑا کرتے تھے کہ سوال کرو۔کیونکہ شہید مرحوم بہت سوال کیا کرتے تھے۔ایک روز ایک ہمارے مبلغ سلسلہ برکت اللہ صاحب مرحوم نے مجلس سوال و جواب کا انعقاد کیا۔خاور صاحب سوال کی کثرت کی وجہ سے مشہور تھے اس لئے مربی صاحب نے شہید مرحوم کو مخاطب کر کے فرمایا خاور صاحب سوال کریں۔تو انہوں نے کہا اب میرا کوئی سوال نہیں ہے۔اور پھر کچھ عرصے بعد بیعت کر لی۔ان کے عزیز کہتے ہیں کہ لیکن ہم ان کو کہتے تھے کہ سوچ لو۔تو انہوں نے ہمارا یہ کہہ کر منہ بند کرا دیا کہ اگر تم میری بیعت نہیں کرواؤ گے تو میں حضور کو لکھوں گا کہ یہ میری بیعت نہیں کرواتے۔اور پھر بیعت کرنے کے بعد نیکی اور روحانیت میں اللہ کے فضل سے بڑی ترقی کی۔مکرم شیخ محمد یونس صاحب شہید مکرم شیخ محمد یونس صاحب شہید ابن مکرم شیخ جمیل احمد صاحب۔شیخ یونس صاحب مرحوم 1947 ء میں امروہہ (انڈیا) میں پیدا ہوئے تھے۔1950ء میں قادیان اور پھر 1955 ء میں ربوہ آگئے۔ان کے والد شیخ جمیل احمد صاحب حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت میں بیعت کر کے جماعت میں شامل ہوئے تھے اور درویشان قادیان میں سے تھے۔شہید مرحوم نے میٹرک ربوہ سے کیا۔اس کے بعد صدر انجمن احمد یہ میں کارکن رہے۔2007ء میں ریٹائر منٹ ہو گئی۔پھر یہ اپنے بیٹے کے پاس لاہور چلے گئے اور بطور سیکرٹری اصلاح و ارشاد اور دعوت الی اللہ خدمت سرانجام دے رہے تھے۔63 سال ان کی عمر تھی۔بیت النور ماڈل ٹاؤن میں ان کی شہادت ہوئی۔اللہ کے فضل سے موصی تھے۔اور معمول ان کا یہی تھا کہ جمعہ کے لئے جلدی مسجد میں جاتے تھے اور اس روز بھی جمعہ کے دن کے لئے مسجد بیت النور میں گیارہ بجے پہنچ گئے۔اور پہلی صف میں بیٹھے تھے۔بیٹا بھی ساتھ تھا۔وہ دوسرے ہال میں تھا۔پہلی صف میں سب سے پہلے زخمی ہوکر گرتے ہوئے دیکھے گئے۔ان 78