شہدائے لاہور کا ذکر خیر — Page 73
بہت بہادر تھے۔اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند کرے۔اپنے حلقے کو جماعتی طور پر بڑا اونچا رکھا ہوا تھا۔ان کے بارے میں عطاء القادر طا ہر صاحب کا ایک خط مجھے ملا۔وہ کہتے ہیں کہ انتہائی مہمان نواز، ملنسار، منکسر المزاج تھے۔تلاوت اور نظم پڑھتے تھے۔کمزوری صحت کے باعث چلنے پھرنے میں دشواری آتی تھی لیکن صدارت سے معذوری ظاہر کرنے کے باجود جماعتی کاموں کے لئے ہر وقت تیار تھے۔خلافت سے آپ کو والہانہ عشق تھا اور ہر تحریک میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے تھے۔مکرم مظفر احمد صاحب شہید مکرم مظفر احمد صاحب شہید ابن مکرم مولا نا محمد ابراہیم صاحب قادیانی درویش مرحوم۔شهید مرحوم کے خسر حضرت میاں علم دین صاحب رضی اللہ عنہ صحابی حضرت مسیح موعود علیہ السلام تھے اور ان کے والد سابق ناظر اصلاح وارشاد و اشاعت قادیان کو حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کے صاحبزادوں کے استاد ہونے کا شرف حاصل ہوا۔شہید مرحوم اپنے حلقے کے امام الصلوۃ تھے۔لمبے عرصے تک مجلس دھرم پورہ کے سیکرٹری مال رہے۔شہادت کے وقت آپ کی عمر 73 سال تھی اور ان کی شہادت بھی دارالذکر میں ہوئی۔باقاعدہ نماز میں دارالذکر میں ادا کرتے تھے۔بارہ بجے جمعہ کی نماز ادا کرنے کے لئے گھر سے نکل گئے۔بیٹا نماز جمعہ کے لیے مسجد بیت النور ماڈل ٹاؤن گیا۔چھ بجے معلوم ہوا کہ مظفر صاحب شہید ہو گئے ہیں۔وہاں مردہ خانے میں ان کی نعش ملی۔پانچ گولیاں ان کو لگی ہوئی تھیں۔زخمی ہونے کی حالت میں ان کو دیکھنے والے جو ان کے قریبی تھی انہوں نے بتایا کہ خود بھی درود شریف پڑھ رہے تھے اور دوسروں کو بھی یہی تلقین کرتے تھے کہ درود پڑھو اور استغفار کرو۔ان کی اہلیہ بیان کرتی ہیں کہ مظفر صاحب بچپن سے ہی نماز تہجد ادا کرنے کے عادی تھے۔کبھی تہجد نہیں چھوڑی۔بچوں کو بھی یہ تلقین کرتے تھے۔اونچی آواز میں تلاوت کرتے تھے۔بلکہ پانچوں وقت نماز کے بعد تلاوت کیا کرتے تھے۔کچھ دن قبل روزے بھی رکھے۔تھوڑے تھوڑے 73