شہدائے لاہور کا ذکر خیر

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 60 of 243

شہدائے لاہور کا ذکر خیر — Page 60

ترجمه قرآن کی کلاس جو لیتے تھے اس میں تقریباً سترہ سپارے پڑھ لئے تھے۔کہتی ہیں حدیث کا بھی گھر میں باقاعدہ درس ہوتا تھا۔چھوٹی عمر سے ہی بحیثیت عہدیدار کے خدمت کا موقع ملتا رہا۔کام کرنے کا جذبہ بہت زیادہ تھا۔عملی کام کے قائل تھے۔بڑے بھائیوں نے بتایا کہ بھائیوں سے دوستانہ تعلقات تھے۔بھائیوں میں ہر کام اتفاق رائے سے ہوتا۔کبھی کوئی مشکل پیش آتی تو شہید مرحوم کے مشورے سے مستفید ہوتے۔چھوٹے بھائی کا مکان بن رہا تھا۔سب بھائیوں نے قرض کے طور پر اس کو رقم دینے کا فیصلہ کیا اور مرحوم نے اپنے حصہ کی رقم سب سے پہلے ادا کی۔اور شہید مرحوم ہم بھائیوں سے کہا کرتے تھے کہ جہاں بھی کوئی ضرورت مند ہو اس کی مدد کر کے مجھ سے رقم لے لیا کرو۔اللہ تعالیٰ ان کی نیکیاں ان کی نسلوں میں بھی جاری رکھے۔مکرم ولید احمد صاحب شہید مکرم ولید احمد صاحب شہید ابن مکرم چوہدری محمد منور صاحب۔شہید مرحوم کے دادا مکرم چوہدری عبد الحمید صاحب سابق صدر جماعت محراب پور سندھ نے 1952 ء میں احمدیت قبول کی تھی۔10 اپریل 1984ء کو محراب پور میں ہی ان کے دادا نے جام شہادت نوش کیا۔اسی طرح شہید مرحوم کے نانا مکرم چوہدری عبدالرزاق صاحب سابق امیر جماعت نوابشاہ سندھ کو 17 اپریل 1985ء کو معاندین احمدیت نے شہید کر دیا۔ان کے والد صدر عمومی ربوہ کے دفتر میں اعزازی کارکن ہیں۔شہادت کے وقت عزیز شہید کی عمر ساڑھے سترہ سال تھی اور میڈیکل کالج کے فرسٹ ائیر میں تعلیم حاصل کر رہا تھا۔وقف نوسکیم میں شامل تھا۔موصی بھی تھا۔اس کی شہادت بھی دارالذکر میں ہوئی ہے۔اور لاہور کا جو سانحہ ہوا ہے اس میں سب سے کم عمر یہ عزیز بچہ ہے۔شہادت والے دن موصوف جمعہ کی ادائیگی کے لئے کالج سے سید ھے اپنے دوسرے احمدی ساتھی طالبعلموں سے پہلے دارالذکر پہنچ گئے۔سانحہ کے دوران موبائل پر رابطہ ہوا تو انہوں 60