شہدائے لاہور کا ذکر خیر — Page 190
ہوئے ایسے شخص کو بھیج سکتا ہے اور بھیجا ہے جو معبود حقیقی اور واحد ویگا نہ خدا کی پہچان دنیا کو کروائے۔پس اگر ہم منہ سے تو کہیں کہ لَا إِلهَ إِلَّا اللہ اور اس کی عبادت کرنے سے ہماری وہ دعا بھی قبول نہ ہو جو اللہ تعالیٰ کے دین کی سربلندی کے لئے ہم کر رہے ہیں۔وہ دعا بھی قبول نہ ہو جو ایک خدا کی حکومت دنیا میں قائم کرنے کے لئے ہم کر رہے ہیں۔ہم پکار پکار کر کہیں کہ اے خدا! تیرے آخری کامل دین کے ماننے والوں کی حالت بھی بگڑ گئی ہے کوئی مسیحا بھیج جو پھر سے انہیں معبود حقیقی کے قدموں میں ڈالتے ہوئے عبادالرحمن بنادے۔نیکن خدا کہے کہ بے شک میں معبود حقیقی ہوں لیکن نعوذ باللہ تمہاری اس دعا کو میں نہیں سن سکتا۔آج بھی یہ غیر احمدی مسلمان چلا چلا کر کہ رہے ہیں کہ اسلام کی کشتی کو سنبھالنے کے لئے خلافت کا نظام ہونا ضروری ہے۔لیکن جس خاتم الخلفاء کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے عشق و محبت میں سرشار کر کے خدا تعالیٰ نے بھیجا ہے، اس کے بارے میں کہتے ہیں کہ نہیں اب ایسا شخص خدا تعالیٰ نہیں بھیج سکتا۔پس ہم تو لَا إِلَهَ إِلَّا اللہ کا یہ اور اک رکھتے ہیں کہ جب ہم نے کہا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور اس کی عبادت کی ، اس کے سامنے جھکے تو اس نے کہا کہ لَا اِلهَ إِلَّا الله قائم کرنے کے لئے اس زمانے میں میں نے تمہاری تضرعات کو سنتے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عاشق صادق کو بھیج دیا ہے۔جاؤ اور اس کے مددگار بن کر لَا إِلهَ إِلَّا اللہ کو دنیا میں پھیلا دو اور ہر قسم کے شرک کو دنیا سے مٹانے کے لئے اس کی مدد کرو۔لیکن ہمارے مخالفین کو یہ برداشت نہیں ہے۔وہ کہتے ہیں کہ تم ہماری طرح منہ سے تو بیشک لا إِلهَ إِلَّا الله کہو، منہ سے تو بے شک کہو کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے لیکن یہ نہ کہو کہ وہ آج بھی ہماری دعاؤں کو سنتے ہوئے کوئی مصلح، کوئی مسیحا کوئی نبی دنیا میں بھیج سکتا ہے۔اے مخالفین احمدیت ! غور سے سن لو کہ ایسی محدود طاقتوں والا خدا تمہارا معبود تو ہو سکتا ہے، ہمارا نہیں۔ہمارا واحد و یگانہ معبودِ حقیقی تو وہ ہے جو تمام صفات کا حامل ہے، تمام طاقتوں کا مالک ہے اور ایسے خدا کو ہم کبھی نہیں 190