شہدائے لاہور کا ذکر خیر — Page 172
ان کے دفتر کا سٹاف ہسپتال میں بھی ان کی مدد کے لئے موجود تھا اور تدفین کے لئے ربوہ بھی آئے۔ان کی کمپنی کے ڈائریکٹر کراچی سے تعزیت کے لئے سیالکوٹ بھی آئے ، اور ربوہ بھی آئے اور بہت دکھ اور رنج کا اظہار کیا۔شہید مرحوم کی اہلیہ بتاتی ہیں کہ اپنے والدین اور بزرگوں کے نہایت ہی فرمانبردار تھے۔ہر کسی سے عزت و احترام سے پیش آتے تھے۔والدین کے ساتھ کبھی بھی اونچی آواز میں بات نہیں کی۔بلکہ اس چیز کو گناہ سمجھتے تھے۔جماعت کے نہایت ہی خدمت کرنے والے ممبر تھے۔جماعت لاہور کے چندوں کے حوالے سے سوفٹ وئیر بھی تیار کیا۔ناظم اطفال کے طور پر خدمت کرتے رہے اور بچوں سے نہایت ہی شفقت اور محبت کا تعلق تھا۔شہادت کے بعد ان کا جنازہ ان کے خاندان والے لاہور سے سیالکوٹ لے گئے جہاں نماز جنازہ ادا کرنے کے بعد تدفین کے لئے ربوہ لے آئے۔وسیم صاحب کو شہادت کی بہت تمنا تھی۔اکثر کہتے تھے کہ اگر کبھی میری زندگی میں ایسا وقت آیا تو میرا سینہ سب سے آگے ہوگا۔مکرم عمران ندیم صاحب سیکرٹری اشاعت مجلس اطفال الاحمدیہ ضلع لاہور ان کے بارے میں بتاتے ہیں کہ نہایت دھیمی طبیعت تھی، اطاعت کا مادہ بہت زیادہ تھا، بڑے آرام سے اور غور سے بات سنتے اور پھر ہدایت پر عمل کرتے کسی اجلاس یا پروگرام میں بچوں کو شامل کرنے کے لئے اپنی گاڑی پر بڑی ذمہ داری سے لاتے اور گھر واپس چھوڑتے۔دوسروں کے بچوں کو گھروں سے اکٹھا کرتے تھے۔آخری دم تک یہ جماعتی خدمات سرانجام دیتے رہے۔صدر صاحب حلقہ علامہ اقبال ٹاؤن ان کے بارے میں بتاتے ہیں کہ بہت ہی مخلص احمدی نوجوان تھے۔مجلس خدام الاحمدیہ کے کاموں میں بہت دلچسپی لیتے تھے۔اطفال کی تعلیم و تربیت کے لئے بہت ہی بہترین رہنما تھے۔وسیم صاحب پانچ بہن بھائیوں میں سب سے بڑے تھے۔نہایت ہی لائق ذہین اور مخنتی نوجوان تھے۔ان کی والدہ محترمہ نے ان کی تعلیم و تربیت میں بہت اہم کردار ادا کیا تھا۔والدین کے کم تعلیم یافتہ ہونے کے باوجود والدین کی خواہش تھی کہ ان کی اولا د تعلیم حاصل کرے۔چنانچہ اپنی لگن اور علم سے محبت کی بدولت کامیاب ہوئے۔ان کی اہلیہ نے 172