شہدائے لاہور کا ذکر خیر

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 163 of 243

شہدائے لاہور کا ذکر خیر — Page 163

الصلوۃ والسلام تھے۔یہ شہید مرحوم کے دادا مکرم میاں دوست محمد صاحب کے کزن تھے۔ان کے دادا اور خاندان کے دیگر لوگوں نے خلافت ثانیہ میں بیعت کی۔شہید مرحوم پیشے کے لحاظ سے فوٹوگرافر تھے۔پچھلے قریباً بیس سال سے جمعہ کے روز دارالذکر کے مین گیٹ پر ڈیوٹی دیا کرتے تھے۔بوقتِ شہادت ان کی عمر 57 برس تھی۔اور مسجد دارالذکر میں جام شہادت نوش فرمایا۔دارالذکر کے مین گیٹ پر ڈیوٹی کے دوران کئی دفعہ اس بات کا اظہار کیا کہ اگر کوئی حملہ کرے گا تو میری لاش سے گزر کر ہی آگے جائے گا۔سانحہ کے روز قریباً گیارہ بجے ڈیوٹی پر پہنچے ، فرنٹ لائن پر کھڑے تھے کہ 1:40 پر دہشتگردوں نے آتے ہی فائرنگ شروع کر دی۔ایک کو تو انہوں نے مضبوطی سے پکڑ لیا جبکہ دوسرے نے آپ پر فائر کر کے آپ کو شہید کر دیا۔اہلیہ محترمہ نے چند دن قبل خواب میں دیکھا کہ ایک تابوت ہے جو عام سائز سے کافی اونچا ہے۔جس کے قریب ایک پیچ پڑا ہے۔ان کے ایک عزیز پیج پر پاؤں رکھ کر تابوت کے اندر لیٹ جاتے ہیں۔پوچھنے پر کہ یہ کیوں لیٹے ہیں حالانکہ یہ تو اچھے بھلے ہیں، ( یہ واقعہ بیچ میں رہ گیا ہے پورا بیان کرنے سے ) اہلیہ نے بتایا کہ جمعہ پر جانے سے پہلے میں نے ان کو گولڈن رنگ کا سوٹ استری کر کے دیا اور ساتھ ہی کہا کہ آج تو آپ دلہوں والا سوٹ پہن رہے ہیں۔چنانچہ خوب تیاری کر کے نماز جمعہ کے لئے گئے۔بے شمار خوبیوں کے مالک تھے۔احساس ذمہ داری بہت زیادہ تھا۔کبھی کسی سے شکوہ نہیں کیا۔نمازوں کے پابند تھے۔فوٹوسٹیٹ کا کام بھی کرتے تھے۔قریبی کالج سے بچے فوٹوسٹیٹ کروانے آتے تو بغیر گنے ہی پیسے رکھ لیتے۔کہتے تھے کہ کبھی کسی کے پاس پیسے نہیں بھی ہوتے اس لئے میں نہیں گنتا۔بعض دفعہ مخالفین آپ کی دکان پر آپ کے سامنے ہی مخالفانہ پوسٹر لگا جاتے تھے۔آپ ان سے جھگڑا نہ کرتے اور بعد میں اتار دیتے۔اپنے بیٹے کو کہا کرتے تھے کہ اگر کوئی زیادتی کرے تو خاموشی سے واپس آ جاؤ۔اگر آپ نے جواب دیا تو پھر آپ نے اپنا معاملہ خود ہی ختم کر لیا۔اگر اللہ پر چھوڑ دیا تو اللہ ضرور بدلہ لے گا۔163