شہدائے لاہور کا ذکر خیر

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 119 of 243

شہدائے لاہور کا ذکر خیر — Page 119

کوریا میں وقف عارضی کا موقع ملا۔1985 ء میں جلسہ سالانہ یو کے میں جاپان کی نمائندگی کی توفیق حاصل ہوئی۔1993ء میں صدر خدام الاحمدیہ جاپان کی حیثیت سے ایک پہاڑ کی چوٹی کو سر کرنے اور اس پر اذان دینے کی سعادت پائی۔1999 ء میں بیت الفتوح کے سنگ بنیاد کے موقع پر آپ کو اور ان کی بیگم کو جاپان کی نمائندگی کی توفیق ملی۔جاپان میں بطور صدر جماعت ٹوکیو سیکرٹری مال کے علاوہ 2001 ء سے 2003 ءتک نائب امیر جاپان کی حیثیت سے خدمت کی توفیق پائی۔ایک موقع پر حضرت خلیفتہ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ نے شہید مرحوم کی اطاعت اور تقویٰ کے نمونہ پر اظہارِ خوشنودی کرتے ہوئے فرمایا کہ اللہ کرے کہ سب جماعت جاپان ان کے نمونے پر چلنے کی توفیق پائے۔جاپان میں اکیس سال قیام کے دوران ملازمت کے علاوہ دیگر تعلیمی کوششیں بھی کرتے رہے۔2003ء میں پاکستان شفٹ ہو گئے۔لاہور میں کیولری گراؤنڈ میں رہتے تھے، آپ کا گھر وہاں بھی نماز سینٹر تھا۔شہادت کے وقت ان کی عمر 56 سال تھی۔اللہ کے فضل سے موصی تھے۔دارالذکر میں شہادت پائی۔ہمیشہ پہلی صف میں بیٹھتے تھے اور وہاں امام صاحب کے قریب بیٹھے تھے۔پائی۔میں اور ان کے سر کے پچھلی طرف گولی لگی اور دایاں ہاتھ گرنیڈ سے زخمی ہوا جس سے شہادت ہوگئی۔شہید مرحوم کی اہلیہ بتاتی ہیں کہ خلافت سے بے انتہا محبت کرنے والے تھے۔جب بھی لندن جاتے تو ان کی کوشش ہوتی کہ نماز خلیفہ وقت کے پیچھے ادا کریں۔خطبات کو ہمیشہ بڑے غور سے سنتے تھے۔یہاں سے جو لائیو خطبات جاتے ہیں کسی وجہ سے براہ راست نہ سن سکتے تو جب تک سن نہ لیتے ، اس وقت تک چین سے نہیں بیٹھتے تھے۔کہتی ہیں کہ حقیقی معنوں میں محبت سب کے لئے نفرت کسی سے نہیں کے مصداق تھے۔سب بچے بوڑھے ہر ایک ان سے عزت سے پیش آتا ، سب کے دوست تھے۔امانتوں کی حفاظت کرنے والے، وعدوں کا ایفاء کرنے والے اور اعلیٰ معیار کی قربانی کرنے والے تھے۔ہر چیز میں سادگی ان کا شعار تھا۔ایک نہایت محبت کرنے والے شوہر تھے۔کہتی ہیں میری چھوٹی چھوٹی باتوں کا بھی خیال رکھتے تھے اور کبھی تھکی ہوتی تو کھانا بھی بنادیا کرتے۔گلے شکوے کی عادت نہیں تھی۔119