شہدائے لاہور کا ذکر خیر — Page 111
آپ اسلام آباد میں ملازمت کے دوران مونا پلی کنٹرول اتھارٹی میں رجسٹرار کے طور پر فائز تھے۔اس دوران اس وقت کے وزیر اعظم کی سفارش کے ساتھ فائل آئی۔بھٹو صاحب وزیر اعظم تھے۔جب فائل آئی تو چوہدری صاحب کو کوئی قانونی سقم نظر آیا۔انہوں نے انکار کے ساتھ اس فائل کو واپس کر دیا۔اب وزیر اعظم پاکستان کی طرف سے فائل آئی ہے انہوں نے کہا کہ یہ قانونی سقم ہے میں اس کی منظوری نہیں دے سکتا۔یہ غلط کام ہے۔تو وزیر اعظم صاحب جو اس وقت سیاہ وسفید کے مالک تھے۔بہت سیخ پا ہوئے اور دھمکی کے ساتھ نوٹ لکھا کہ یا تو تم کام کرو ورنہ تمہارے خلاف سخت سے سخت کارروائی کی جائے گی۔تو چوہدری صاحب نے اپنے احمدی ہونے کا بھی نہیں چھپایا تھا اور موقع محل کے مطابق تبلیغ بھی کرتے تھے۔وزیر اعظم صاحب کو بھی یہ پتہ تھا کہ احمدی ہے۔کیونکہ اس نے اس معاملے میں بعض غلط قسم کے الفاظ چوہدری ظفر اللہ خان صاحب کے بارے میں بھی استعمال کئے تھے۔بہر حال یہ معاملہ حضرت خلیفہ اسیح الثالث کی خدمت میں پیش ہوا تو حضور نے دعا کے ساتھ فرمایا ٹھیک ہے، ہمت کرے اور اگر بزدل ہے تو استعفیٰ دے دے۔جب چوہدری صاحب کو حضرت خلیفتہ اسیح الثالث کا یہ پیغام ملا تو انہوں نے کہا جو مرضی ہو جائے میں استعفی نہیں دوں گا اور ایک لمباخط وزیر اعظم صاحب کو لکھا کہ اگر میں استعفیٰ دوں تو ہوسکتا ہے کہ سمجھا جائے کہ میں کچھ چھپانا چاہتا ہوں۔مجھے کچھ چھپانا نہیں ہے اس لئے میں نے استعفی نہ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔اس پر ان کے خلاف کارروائی ہوئی اور ان کو ایک نوٹ ملا کہ تمہاری خدمات سے تم کو فارغ کیا جاتا ہے۔اور کوئی وجہ نہیں بتائی گئی۔انہوں نے پھر حضرت خلیفہ المسیح الثالث کی خدمت میں معاملہ پیش کیا، اور دعا کے لئے کہا۔انہوں نے دعا کی۔اگلی صبح کہتے ہیں کہ میں فجر کی نماز کے لئے باہر نکلا تو اس وقت کے امیر جو چوہدری عبد الحق ورک صاحب تھے ، ان سے ملاقات ہوئی تو انہوں نے کہا کہ میں آپ کے لئے دعا کر رہا تھا تو مجھے آواز آئی کہ چھٹیاں مناؤ، عیش کرو۔تو جب بھٹو صاحب کی حکومت ختم ہوئی اور مارشل لاء والوں نے تمام سرکاری دفاتر کی تلاشی لینی شروع کی تو ان کی فائل بھی سامنے آئی اور ان کے 111