شہدائے لاہور کا ذکر خیر — Page 75
گوجرانوالہ پہنچنے پر بھی جلوس نے آپ پر حملہ کیا۔بہر حال اس طرح بچتے بچاتے اپنے گھر آدھی رات کو پہنچے۔ان دنوں جو حالات تھے بڑے خوفناک حالات تھے۔اور مرکز سے رابطے کے لئے جو لوگ آتے تھے وہ بڑی قربانی دے کر آتے تھے۔بہر حال قربانیوں کے لئے تو یہ ہر دم تیار تھے۔اور پھر دوبارہ انہوں نے 1998ء میں ڈسٹری بیوشن کا کام شروع کیا۔کوکا کولا کے ڈسٹری بیوٹر بنے۔جب بوتلوں کا کام کرتے تھے تو کئی پارٹیاں آ کر یہ لالچ دیتی تھیں کہ آپ کی ایمانداری کی شہرت بہت ہے کہ آپ کی کوئی بوتل جعلی نہیں ہوتی۔جب آپ تقسیم کرتے ہیں، بالکل خالص چیز ہوتی ہے۔پاکستان میں تو جعلی بوتلوں کا کسی بھی چیز کا جعلی کاروبار بہت زیادہ ہے۔ہر چیز میں ملاوٹ ہوتی ہے۔تو انہوں نے ان کو مشورہ دیا کہ آپ کی شہرت تو ہے ہی، آپ اپنے جو کریٹ بیچتے ہیں ان میں دو جعلی بوتلیں ڈال دیا کریں۔اس سے آپ کا منافع جو ہے کئی گنا بڑھ جائے گا اور کروڑ پتی ہو جائیں گے۔لیکن آپ نے کبھی ان کی بات نہیں مانی اور نہ کبھی ایسے سوچا۔ان لوگوں کی جو مشورہ دینے آتے تھے ، بڑی مہمان نوازی کرتے تھے، اور اس وقت بڑے آرام سے کہہ دیا کرتے تھے کہ آپ غلط جگہ پر آگئے ہیں۔چھ سال امیر جماعت تحصیل وزیر آباد بھی رہے۔آپ کے ایک بیٹے قمر احمد صاحب مربی سلسلہ ہیں، آج کل ببینن میں ہیں۔شہادت کے وقت ان کی عمر 65 سال تھی۔وصیت کی ہوئی تھی اور آپ کی شہادت بھی دارالذکر مسجد میں ہوئی۔جب حملہ ہوا ہے تو اپنی جگہ پر لیٹے رہے اور حملہ کے بعد محراب کے پاس گرینیڈ گرا تو زخمی ہو گئے۔گردن کا بائیں طرف کا حصہ گرینیڈ پھٹنے سے اڑ گیا۔اور کافی بلیڈنگ ہوئی اور بھانجے کو فون کیا کہ بیٹا میں کافی زخمی ہو گیا ہوں۔پانچ چھ گولیاں میرے جسم میں بھی لگی ہیں۔انتہائی نرم دل، غریب پرور اور توکل کرنے والے انسان تھے۔ہر ایک سے شفقت اور محبت کا سلوک کرتے تھے۔دعا گو انسان تھے۔کسی کی تکلیف کا پتہ چلتا تو فوری دعا شروع کر دیتے۔ان کی اہلیہ کہتی ہیں کہ میری رفاقت ان سے 39 سال رہی۔کبھی انہوں نے مجھے اُف نہیں کہا۔اور نہ ہی بچوں کو کچھ کہا میں اگر کچھ کہتی تھی تو یہی کہتے تھے کہ دعا کیا کرو، میں بھی ان کے لئے 75