شہدائے لاہور کا ذکر خیر

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 67 of 243

شہدائے لاہور کا ذکر خیر — Page 67

وصیت میں شامل تھے۔شہادت کے وقت ان کی عمر 43 سال تھی۔مسجد دارالذکر گڑھی شاہو میں شہادت پائی۔عموماً مسجد بیت النور ماڈل ٹاؤن میں جمعہ ادا کرتے تھے۔لیکن وقوعہ کے روز نماز جمعہ کی ادائیگی کے لئے اپنے دفتر سے ( اپنے کام سے ) مسجد دارالذکر چلے گئے۔شہادت سے قبل سردار عبدالباسط صاحب ( جوان کے ماموں ہیں ) سے بھی فون پر بات ہوئی۔گھر میں بھی فون کرتے رہے اور یا حفیظ یا حفیظ کا ورد کرتے رہے۔ماموں کو بھی دعا کے لئے کہتے رہے کہ دعا کریں دہشتگردوں نے ہمیں گھیرا ڈالا ہوا ہے۔اہلیہ محترمہ کو پتہ چلا کہ مسجد پر حملہ ہوا ہے تو آپ کو فون کیا اور کہا کہ آپ جمعہ کے لئے نہ جائیں۔لیکن پتہ لگا کہ آپ تو دارالذکر میں موجود ہیں۔گھر میں بھی دعا کے لئے کہتے رہے اور ساڑھے تین بجے ایک دوست جو ملٹری میں ہے ان کو فون کر کے کہا کہ اس طرح کے حالات ہیں، پولیس تو کچھ نہیں کر رہی ، تم لوگ مسجد میں لوگوں کی مدد کے لئے آؤ۔شہید ہونے تک دوسروں کو بچانے کی کوشش کرتے رہے۔اور انہوں نے موقع پاتے ہی بھاگ کر ایک دہشتگرد کو پکڑا تو دوسرے دہشتگرد نے فائرنگ کر دی۔جس دہشتگرد کو پکڑا تھا اس نے اپنی خود کش جیکٹ بلاسٹ کرنے کی کوشش کی لیکن وہ پوری طرح نہیں بلاسٹ ہوسکی، دھما کا تھوڑا ہوالیکن اس دھماکے سے شہید ہو گئے اور دہشتگر دشدید زخمی ہو گیا۔لوگ کہتے ہیں کہ یہ آسانی سے بچ سکتے تھے اگر یہ اس وقت ایک طرف ہو جاتے اور دہشتگرد پر نہ جھپٹتے۔شہید مرحوم کو خدمت خلق کا بہت شوق اور جذبہ تھا۔جب بھی کسی کو ضرورت پڑتی ، خون کا عطیہ دے دیا کرتے۔ہمیشہ اپنی تکلیف کے باوجود دوسروں کی مدد کرتے۔رویہ کے بہت اچھے تھے۔ان کی اہلیہ کہتی ہیں مجھے کبھی کسی دوست کی ضرورت نہیں پڑی۔اہلیہ کہتی ہیں مجھے کبھی کوئی محسوس نہیں ہوا کہ مجھے کوئی دوست یا سہیلی بنانی چاہئے۔گھر کے سارے کاموں میں میرا ہاتھ بٹاتے تھے۔یہاں تک کہ برتن بھی دھلوا دیتے تھے۔بڑی سادہ طبیعت کے مالک تھے۔نیکی کو ہمیشہ چھپا کر رکھتے تھے۔استغفار اور درود شریف بہت پڑھتے تھے۔یوں لگتا تھا کہ انگلیوں میں تسبیح کر رہے ہیں۔بے لوث خدمت کرنے والے تھے، رحم دل تھے۔ہر رشتے کے لحاظ سے وہ بہترین تھے 67