شہدائے لاہور کا ذکر خیر

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 62 of 243

شہدائے لاہور کا ذکر خیر — Page 62

مکرم محمد انور صاحب شہید مکرم محمد انور صاحب شہید ابن مکرم محمد خان صاحب۔ان کا تعلق شیخو پورہ سے تھا۔حضرت خلیفۃ اسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ کے دور خلافت میں انہوں نے بیعت کی۔ابتدائی عمر میں فوج میں بھرتی ہو گئے۔دس سال قبل ریٹائر ڈ ہوئے تھے اور ساتھ ہی بیت نور ماڈل ٹاؤن میں بطور سیکیورٹی گارڈ خدمت کا آغاز کیا اور تا وقتِ شہادت اس فریضے کو احسن رنگ میں انجام دیا۔شہادت کے وقت ان کی عمر 45 سال تھی۔مجلس ماڈل ٹاؤن میں ہی انہوں نے (جیسا کہ وہاں سکیورٹی گارڈ تھے ) شہادت پائی۔موصی تھے۔اس واقعہ میں ان کا بیٹا عطاء الحئی بھی شدید زخمی ہوا جو ہسپتال میں ہے۔شہید مرحوم بحیثیت سیکیورٹی گارڈ بیت نور کے مین گیٹ پر ڈیوٹی کر رہے تھے کہ دہشتگر دکو دور سے آتے دیکھا تو اپنے ساتھ کھڑے ایک خادم کو کہا کہ یہ آدمی مجھے ٹھیک نہیں لگ رہا۔تو خادم نے کہا کہ آپ کو تو یوں ہی ہر ایک پر شک ہو رہا ہوتا ہے۔انہوں نے کہا نہیں، میں فوجی ہوں میں اس کی چال ڈھال سے پہچانتا ہوں۔بہر حال اسی وقت دہشتگر دقریب آیا اور اس نے فائرنگ شروع کر دی۔انہوں نے بھی مقابلہ کیا۔ایک خادم نے ان کو کہا کہ گیٹ کے اندر آ جائیں تو انہوں نے کہا کہ نہیں، شیروں کا کام پیچھے ہٹنا نہیں۔اور ساتھ ہی جو ان کے پاس ہتھیار تھا اس سے فائرنگ کی۔ہٹنا دہشتگر د زخمی ہو گیا۔لیکن پھر دوسرے دہشتگرد نے گولیوں کی ایک بوچھاڑ ماری جس سے و ہیں موقع پر شہید ہو گئے۔بڑے خدمت دین کرنے والے تھے۔کبھی کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے تھے۔مسجد کے غسل خانے خود صاف کرتے ، جھاڑو دیتے۔اور جب مسجد کی تعمیر ہورہی تھی تو جو ہمیں چوبیس گھنٹے مسلسل وہیں رہے ہیں۔والدین کی بھی ہر ممکن خدمت کرتے۔ان کی اہلیہ کہتی ہیں تہجد میں پہلے با قاعدگی نہیں تھی۔ایک ماہ سے مسلسل تہجد پڑھ رہے تھے۔اور بچوں سے پہلا سوال یہی ہوتا تھا کہ نماز کی ادائیگی کی ہے یا نہیں اور قرآنِ کریم پڑھا ہے کہ نہیں۔اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند فرمائے۔62