شہدائے لاہور کا ذکر خیر

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 56 of 243

شہدائے لاہور کا ذکر خیر — Page 56

میرا کوئی سوال نہیں بس بیعت کرنا چاہتا ہوں۔تو یہ ہے نیک فطرتوں کا رد عمل۔جب بات سمجھ آ جاتی ہے تو کوئی سوال نہیں۔جس پر اس کے بعد پھر پوری فیملی نے بیعت کر لی۔بوقتِ شہادت موصوف کی عمر 30 سال تھی۔انہوں نے بی اے ماس کمیونیکیشن (Mass Communication) میں کیا ہوا تھا۔خدام الاحمدیہ کے بڑے فعال رکن تھے۔UMTAا ہور کے بڑے فعال کارکن تھے۔سمعی بصری شعبہ میں خدمت سرانجام دے رہے تھے۔موصی تھے۔دارالذکر میں انہوں نے جام شہادت نوش کیا۔یہ شہید بھی دہشت گردوں کے حملے کے دوران MTA کے لئے ریکارڈنگ کرنے کے لئے نکل پڑے اور اسی سلسلے میں اوپر کی منزل سے اتر رہے تھے کہ دہشت گرد کی گولی سے شہید ہو گئے۔پچھلے تین سال مسلسل دارالذکر رہ کر کام کیا۔شہادت سے ایک دن قبل اپنی ملازمت سے رخصت لی اور جمعہ کے لئے صبح گھر آئے اور کہا کہ میں آج سارے کام ختم کر آیا ہوں۔اور کہا کرتے تھے کہ میرا جینا اور مرنا یہیں دارالذکر میں ہے۔والد، والدہ اور بھائی نے کہا کہ شہادت ہمارے لئے بہت بڑا اعزاز ہے۔خدا کرے کہ یہ خون جماعت کی آبیاری کا باعث ہو۔یہ ان کے جذبات ہیں۔شہید بڑے نیک فطرت اور ہمدرد انسان تھے۔ان کے تین ہی ٹھکانے تھے۔یا دفتر یا دارالذکر یا گھر کبھی غصہ نہیں آتا تھا۔ایک دفعہ ان کی والدہ نے پوچھا تمہیں بیٹا غصہ نہیں آتا؟ انہوں نے کہا ہم جیسے کام کرنے والوں کو کبھی غصہ نہیں آتا۔والد صاحب نے بتایا کہ چند سال پہلے خواب میں دیکھا کہ کسی نے میرے دل پر گولی چلائی ہے، جس کی تعبیر میں نے اپنے اوپر لاگو کی۔لیکن جب میرا بیٹا شہید ہوا تو پتہ لگا کہ اس کی تعبیر یہ تھی۔ان کی شہادت کے چند دن بعد 5 جون کو اللہ تعالیٰ نے ان کی اہلیہ کو دوسرے بیٹے سے نوازا ہے۔اللہ تعالیٰ ان کی اولاد کو نیک، صالح اور خادم دین بنائے اور وہ لمبی عمر پانے والے ہوں۔56