شہدائے لاہور کا ذکر خیر

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 47 of 243

شہدائے لاہور کا ذکر خیر — Page 47

مکرم محمد اشرف بلال صاحب شہید مکرم محمد اشرف بلال صاحب شہید ابن مکرم عبداللطیف صاحب۔شہید مرحوم کے والد نے بیعت کر کے سلسلہ عالیہ احمدیہ میں شمولیت اختیار کی تھی۔ان کے نانا مکرم خدا بخش صاحب نے حضرت مصلح موعودؓ کے ہاتھ پر بیعت کی تھی۔یہ برطانیہ کے شہری تھے۔ان دنوں پاکستان آئے ہوئے تھے۔مالی خدمات میں حصہ لینے والے تھے۔انہوں نے شالیمار ٹاؤن کی بیت الذکر تعمیر کروا کر جماعت کو عطیہ کرنے کی سعادت پائی۔انجنیئر نگ کے شعبہ سے وابستہ تھے۔اپنی ورکشاپ فیکٹری بنائی ہوئی تھی۔شہادت کے وقت ان کی عمر 56 سال تھی اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعتی خدمات ، سیکرٹری تحریک جدید وغیرہ کے طور پر بھی انجام دے رہے تھے۔دارالذکر میں ان کی شہادت ہوئی ہے۔موصی تھے۔ان کے بائیں کندھے کے پیچھے سے گولی لگ کر سامنے دل سے نکل گئی تھی اور مضبوطی سے انہوں نے ہاتھ جسم کے قریب کر کے جیب میں ڈالا اور ڈرائیور کوفون کیا کہ مجھے گولی لگی ہے لیکن کسی کو بتانا نہیں ہے۔اسی طرح ایک گولی ان کی گردن پر بھی لگی۔ایک بچہ نثار احمد نام کا جو بچپن سے ان کے پاس تھا۔اس کے بارے میں دیکھنے والوں نے بتایا کہ ان کو گرتے ہوئے اس بچے نے بازوؤں میں لے لیا۔لیکن وہ نیم مردہ حالت میں آگئے۔نثار نے ان کا سراٹھا کر جب ان کے دل کی دھڑکن سننے کی کوشش کی ہے تو دہشتگر دنے ایک اور گولیوں کی بوچھاڑ کی جس سے وہ لڑکا نثار احمد بھی شہید ہو گیا اور وہ بھی شہادت پاتے ہوئے اپنی وفاداری کا ثبوت دے گیا۔ہر وقت ذکر الہی اور استغفار میں مصروف رہتے تھے۔نمازوں میں خوب روتے تھے۔ان کی اہلیہ کہتی ہیں میں وجہ پوچھتی تھی تو کہتے تھے کہ میں اللہ تعالیٰ کا شکر کرتا ہوں میں تو اس قابل نہ تھا۔خدمت خلق اور مالی قربانی میں بہت آگے بڑھے ہوئے تھے۔ہر ماہ کئی لاکھ روپیہ خدمت خلق کے لئے خرچ کر دیتے تھے۔ایک فری ڈسپنسری چلا رہے تھے۔بہت سے لوگوں کو ماہانہ خرچ دیتے تھے۔جو کوئی بھی ان کے پاس مدد کے لئے آتا تو کہتے کہ اب 47