شہدائے لاہور کا ذکر خیر

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 41 of 243

شہدائے لاہور کا ذکر خیر — Page 41

ہمارے سلسلہ کے ایک مبلغ ہیں مبشر مجید صاحب انہوں نے ان کے بارے میں ایک واقعہ لکھا ہے۔یہ گلبرگ لاہور میں مربی ہوتے تھے کہتے ہیں کہ 97ء یا 98ء کی بات ہے کہ مجھے ایک دن مربی ضلع کا فون آیا کہ غیر احمدیوں کے ایک بڑے عالم ہیں اور جمیعت علمائے پاکستان کے کسی اعلیٰ عہدے پر، بڑے عہدے پر قائم ہیں ان کو ہم نے ملنے جانا ہے۔تو کہتے ہیں میں بڑا حیران ہوا کہ کیا ضرورت ، مصیبت پڑ گئی ہے ان کو ملنے کی ؟ خیر، کہتے ہیں میں مربی صاحب ضلع کے ساتھ چلا گیا۔سبزہ زار میں جمیعت کا سیکریٹریٹ ہے تو وہاں جب ہم پہنچے ہیں تو ان صاحب سے تعارف ہوا۔یہ ہمارے شدید ترین مخالف لوگ ہیں۔ان صاحب نے جو جمیعت علماء پاکستان کے سیکرٹری تھے انہوں نے کہا کہ مجھ پر کسٹم والوں نے ایک سراسر غلط مقدمہ بنا دیا ہے۔جو جج ہے وہ نہایت عجیب وغریب قسم کا انسان ہے۔میں تین پیشیاں بھگت چکا ہوں۔جب بھی میں عدالت میں آتا ہوں تو کرسی پر بیٹھتے ہی میز پر ایک زور دار مکا مارتا ہے اور کہتا ہے کہ Listen every body کہ میں احمدی ہوں، اب مقدمہ کی کارروائی شروع کرو۔تو یہ صاحب کہتے ہیں کہ میری تو آدھی جان و ہیں نکل جاتی ہے جب یہ دھمکی دیتے ہیں۔مجھے یہ خیال ہے کہ یہ مجھے پیغام دیتے ہیں کہ بچو ! اب تم میرے قابو میں آئے ہو ، اب میں تمہیں چھوڑوں گا نہیں۔تو آپ لوگ خدا کے واسطے میری کوئی مدد کریں اور میری اس سے جان چھڑوائیں۔مجھے لگتا ہے کہ مذہبی مخالفت کی بنا پر مجھے سزا دے دے گا۔پھر بولے: عجیب قسم کا آدمی ہے۔یہ کوئی زمانہ ہے، یہ حالات ہیں؟ کہ یہ صاحب آتے ہیں اور میز پر مکا مار کے اپنے احمدی ہونے کا اعلان کرتے ہیں اور میرے پسینے چھوٹ جاتے ہیں۔مرتبی صاحب کہتے ہیں کہ میں نے ان سے کہا کہ آپ غلطی پر ہیں۔آپ نے ان کے پیغام کو نہیں سمجھا۔وہ میز پر مکا مار کے یہ کہتے ہیں کہ ہر ایک سن لو، میں احمدی ہوں۔اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ وہ آپ کو دھمکاتے ہیں بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ سنو اور غور سے سنو کہ میں احمدی ہوں۔نہ میں رشوت لیتا ہوں ، نہ ہی میں کسی کی سفارش سنوں گا اور نہ ہی میرے فیصلے کسی تعصب کے زیر اثر ہوتے ہیں۔میں صرف خدا سے ڈرتا 41