شہدائے لاہور کا ذکر خیر — Page 37
آج میں ان شہداء کا ذکر کروں گا جو لاہور میں جمعہ کے دوران دہشت گردوں کے ظلم اور سفا کی کا نشانہ بنے تھے۔جیسا کہ میں نے گزشتہ خطبہ میں بھی کہا تھا کہ موت کو سامنے دیکھ کر بھی وہاں موجود ہر احمدی نے کسی خوف کا اظہار نہیں کیا۔نہ ہی دہشت گردوں کے آگے ہاتھ جوڑے، نہ زندگی کی بھیک مانگی، بلکہ دعاؤں میں مصروف رہے اور ایک دوسرے کو بچانے کی کوشش میں مصروف رہے۔یہ کوشش تو رہی کہ اپنی جان دے کر دوسرے کو بچائیں لیکن یہ نہیں کہ ادھر ادھر panic ہو کر دوڑ جائیں۔اور ان دعاؤں سے ہی گولیوں کی بوچھاڑ کرنے والوں کا مقابلہ کیا جو ظالمانہ طریقے پر گولیاں چلا رہے تھے۔ان دعائیں کرنے والوں میں کچھ مومنین کو اللہ تعالیٰ نے شہادت کا رتبہ عطا فرمایا اور یہ رتبہ پاکر ان کو خدا تعالیٰ نے دائمی زندگی عطا فر مادی اور یہ سب لوگ جو ہیں یہ احمدیت کی تاریخ میں انشاء اللہ تعالیٰ ہمیشہ روشن ستاروں کی طرح چمکتے رہیں گے۔اللہ تعالیٰ ان سب کے درجات بلند سے بلند تر کرتا چلا جائے۔بہر حال شہداء کا ذکر میں کرنا چاہتا ہوں۔ان کے ذکر خیر سے پہلے ایک ضروری امر کی وضاحت بھی کرنا چاہتا ہوں۔مجھ سے بعض جماعتوں کی طرف سے بھی پوچھا جا رہا ہے کہ شہداء فنڈ میں لوگ کچھ دینا چاہتے ہیں تو یہ رقم کس مد میں دینی ہے؟ اسی طرح بعض دوست مشورے بھی بھجوا رہے ہیں کہ شہداء کے لئے کوئی فنڈ قائم ہونا چاہئے۔یہ ان کی لاعلمی ہے۔شہداء کے لئے فنڈ تو اللہ تعالی کے فضل سے خلافت رابعہ سے قائم ہے جو سیدنا بلال فنڈ“ کے نام سے ہے اور میں بھی اپنے اس دور میں ایک عید کے موقع پر اور خطبوں میں دو دفعہ بڑی واضح طور پر اس کی تحریک کر چکا 37