شہدائے لاہور کا ذکر خیر

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page iv of 243

شہدائے لاہور کا ذکر خیر — Page iv

پیش لفظ جمعۃ المبارک 28 رمئی 2010ء کو عین اس وقت جب کہ سینکڑوں احمدی نماز جمعہ کی ادائیگی کے لئے لاہور کی دو بڑی احمد یہ مساجد ، دارالذکر ( گڑھی شاہو ) اور بیت النور ماڈل ٹاؤن ) میں جمع تھے بعض خود کش مسلح دہشتگردوں نے ان احمد یہ مساجد پر گولیوں اور گرنیڈوں کی اندھا دھند بوچھاڑ اور خود کش بم دھماکوں کے ذریعہ حملہ کر کے معصوم اور نہتے نمازیوں کا بے دریغ خون بہایا۔یہ سفا کا نہ کارروائی کئی گھنٹوں تک جاری رہی۔اس نہایت ظالمانہ اور بہیمانہ حملہ کے نتیجہ میں 86 احمدی شہید اور متعدد شدید زخمی ہوئے۔إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُوْنَ۔جماعت احمدیہ کی تاریخ میں اجتماعی شہادت کا یہ سب سے بڑا اور نہایت دردناک واقعہ ہے۔امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمد خلیفہ اسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے 28 مئی سے 9 جولائی تک اپنے خطبات جمعہ میں ان شہیدوں اور زخمیوں کی جرات و بہادری ، عزم و ہمت اور ان کے پسماندگان کے صبر و استقامت کے عظیم الشان اور درخشندہ نمونوں اور شہدائے لاہور کے اخلاق حسنہ اور خصائل حمیدہ کا بہت ہی قابل رشک اور دلگد از تذکرہ فرمایا۔اسی تسلسل میں حضور نے جلسہ سالانہ جرمنی 2010 ء کے موقع پر 27 جون کو نہایت ہی پر شوکت، جلالی شان والا اور ولولہ انگیز اختتامی خطاب فرمایا۔یہ کتاب انہی سات خطبات جمعہ اور اختتامی خطاب بر موقع جلسہ سالانہ جرمنی 2010 ء پر مشتمل ہے۔حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ کی اجازت سے اور حضور کی ہدایات کے مطابق ان خطبات اور خطاب کا وہ حصہ جو براہ راست اس موضوع سے متعلق نہیں تھا اسے اس کتاب میں شامل نہیں کیا گیا۔اسی طرح بعض دیگر ضروری تصحیحات و ترمیمات کی گئی ہیں۔نیز شہداء کرام کی تصاویر کتاب میں دی جارہی ہیں۔جیسا کہ حضور ایدہ اللہ نے فرمایا: ” یہ سب لوگ۔۔۔احمدیت کی تاریخ میں انشاء اللہ تعالیٰ ہمیشہ روشن ستاروں کی طرح چمکتے رہیں گئے“۔(خطبہ جمعہ فرمودہ 4 جون 2010 ء) حضرت خلیفہ اسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ کی زبان مبارک سے شہداء لاہور کا یہ