شہدائے لاہور کا ذکر خیر — Page 20
تو سامنے والے زخمی نے کہا ہمت اور حوصلہ کرو، لوگ تو بغیر کسی عظیم مقصد کے اپنی جانیں قربان کر دیتے ہیں تم تو اپنے ایک عظیم مقصد کے لئے قربان ہونے جا رہے ہو۔اور پھر وہ اف کہنے والا آخر دم تک صرف درود شریف پڑھتا رہا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجتے ہوئے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ یقین کرواتا رہا کہ ہم نے جو سیح محمدی سے عہد کیا تھا اسے پورا کر رہے ہیں۔میں نے ایک ایسی درد ناک ویڈیو دیکھی، جو زخمیوں نے ہی اپنے موبائل فون پر ریکارڈ کی تھی۔اس کو دیکھ کر دل کی عجیب کیفیت ہو جاتی ہے۔پس یہ وہ لوگ ہیں جن سے بیشک قربانیاں تو خدا تعالیٰ نے لی ہیں لیکن اس کے فرشتوں نے ان پر سکینت نازل کی ہے اور یہ لوگ گھنٹوں بغیر کرا ہے صبر ورضا کی تصویر بنے رہے۔فون پر لاہور کے ایک لڑکے نے مجھے بتایا کہ میرے 19 سالہ بھائی کو چار پانچ گولیاں لگیں، لیکن زخمی حالت میں گھنٹوں پڑا رہا ہے، اپنی جگہ سے ہلا تک نہیں اور دعائیں کرتا رہا۔اگر پولیس بر وقت آ جاتی تو بہت سی قیمتی جانیں بچ سکتی تھیں۔لیکن جب پورا نظام ہی فساد میں مبتلا ہو تو ان لوگوں سے کیا توقعات کی جاسکتی ہیں؟ ایک نوجوان نے دشمن کے ہینڈ گرنیڈ کو اپنے ہاتھ پر روک لیا اس لئے کہ واپس اس طرف لوٹا دوں لیکن اتنی دیر میں وہ گرنیڈ پھٹ گیا اور اپنی جان دے کر دوسروں کی جان بچالی۔ایک بزرگ نے اپنی جان کا نذرانہ دے کر نو جوانوں اور بچوں کو بچالیا۔حملہ آور کی طرف ایک دم دوڑے اور ساری گولیاں اپنے سینہ پر لے لیں۔آج پولیس کے آئی جی صاحب بڑے فخر سے یہ بیان دے رہے ہیں کہ پولیس نے دو دہشتگردوں کو پکڑ لیا۔جب اوپر سے نیچے تک ہر ایک جھوٹ اور سچ کی تمیز کرنا چھوڑ دے تو پھر ایسے بیان ہی دیئے جاتے ہیں۔دو دہشتگرد جو پکڑے گئے ہیں انہیں بھی ہمارے ہی لڑکوں نے پکڑا۔اور پکڑنے والا بھی مجھے بتایا گیا، ایک کمزور سا لڑکا تھا یعنی بظاہر جسمانی لحاظ سے بڑے ہلکے جسم کا مالک تھا لیکن ایمان سے بھرا ہوا تھا۔اس نے ایک ہاتھ سے اس دہشتگرد کی گردن دبوچے رکھی اور دوسرے ہاتھ سے اس کی جیکٹ تک اس کا 20