شہدائے لاہور کا ذکر خیر

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 19 of 243

شہدائے لاہور کا ذکر خیر — Page 19

قربانیاں کیا چیز ہیں ہم تو اپنا سب کچھ اور اپنے خون کا ہر قطرہ مسیح موعود کی جماعت کے لئے قربان کرنے کے لئے تیار ہیں۔اس لئے تیار ہیں کہ آج ہمارے لہو ، آج ہماری قربانیاں ہی حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے افضل الرسل اور خاتم الانبیاء ہونے کا اظہار اور اعلان دنیا پر کریں گی۔ہم وہ لوگ ہیں جو قرونِ اولیٰ کی مثالیں قائم کریں گے۔ہم ہیں جن کے سامنے صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا عظیم نمونہ پھیلا ہوا ہے۔یہ سب خطوط، یہ سب جذبات پڑھ اور سن کر اپنے جذبات کا اظہار کرنا تو میرے بس کی بات نہیں ہے۔لیکن اللہ تعالیٰ نے اس یقین پر قائم کر دیا، مزید اس میں مضبوطی پیدا کر دی کہ یہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے پیارے یقیناً ان اعلیٰ مقاصد کو حاصل کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو عطا فرمائے ہیں جن کے پورا کرنے کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام مبعوث ہوئے تھے۔صبر و استقامت کے حامل یہ وہ عظیم لوگ ہیں، جن کے جانے والے بھی ثبات قدم کے عظیم نمونے دکھاتے ہوئے خدا تعالیٰ کے حضور حاضر ہو گئے اور اللہ تعالیٰ کے وعدے کے مطابق وَلَا تَقُولُوا لِمَنْ يُقْتَلُ فِي سَبِيلِ اللهِ أَمْوَاتٌ بَلْ أَحْيَاء وَلَكِنْ لَّا تَشْعُرُونَ (البقرة 155) کے مصداق بن گئے ، اور دنیا کو بھی بتا گئے کہ ہمیں مردہ نہ کہو۔بلکہ ہم زندہ ہیں۔ہم نے جہاں اپنی دائگی زندگی میں خدا تعالیٰ کی رضا کو پالیا ہے وہاں خدا تعالیٰ کے دین کی آبیاری کا باعث بھی بن گئے ہیں۔ہمارے خون کے ایک ایک قطرے سے ہزاروں ثمر آور درخت نشو و نما پانے والے ہیں۔ہمیں فرشتوں نے اپنی آغوش میں لے لیا ہے۔ہمیں تو اپنی جان دیتے ہوئے بھی پتہ نہیں لگا کہ ہمیں کہاں کہاں اور کتنی گولیاں لگی ہیں؟ ہمیں گرنیڈ سے دیئے گئے زخموں کا بھی پتہ نہیں لگا۔یہ صبر و رضا کے پیکر اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لئے بے چین ، دین کی خاطر اپنی جانوں کے نذرانے پیش کرنے والے ، گھنٹوں اپنے زخموں اور ان میں سے بہتے ہوئے خون کو دیکھتے رہے لیکن زبان پر حرف شکایت لانے کی بجائے دعاؤں اور درود سے اپنی اس حالت کو اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کا ذریعہ بناتے رہے۔اگر کسی نے ہائے یا اُف کا کلمہ منہ سے نکالا 19