شہدائے لاہور کا ذکر خیر

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 18 of 243

شہدائے لاہور کا ذکر خیر — Page 18

ملے اور تمام کا مضمون ایک محور پر مرکوز تھا ، جس میں لاہور کے شہداء کی عظیم شہادت پر جذبات کا اظہار کیا گیا تھا، اپنے احساسات کا اظہارلوگوں نے کیا تھا۔غم تھا، دکھ تھا ، غصہ تھا لیکن فوراً ہی اگلے فقرہ میں وہ غصہ صبر اور دعا میں ڈھل جاتا تھا۔سب لوگ جو تھے وہ اپنے مسائل بھول گئے۔یہ خطوط پاکستان سے بھی آ رہے ہیں، عرب ممالک سے بھی آ رہے ہیں، ہندوستان سے بھی آرہے ہیں، آسٹریلیا اور جزائر سے بھی آرہے ہیں۔یورپ سے بھی آ رہے ہیں، امریکہ سے بھی آ رہے ہیں، افریقہ سے بھی آرہے ہیں ، جن میں پاکستانی نژاد احمدیوں کے جذبات ہی نہیں چھلک رہے کہ ان کے ہم قوموں پر ظلم ہوا ہے۔باہر جو پاکستانی احمدی ہیں، ان کے وہاں عزیزوں یا ہم قوموں پر ظلم ہوا ہے۔بلکہ ہر ملک کا باشندہ جس کو اللہ تعالیٰ نے مسیح محمدی کی بیعت میں آنے کی توفیق دی ، یوں تڑپ کر اپنے جذبات کا اظہار کر رہا تھا یا کر رہا ہے جس طرح اس کا کوئی انتہائی قریبی خونی رشتہ میں پرویا ہوا عزیز اس ظلم کا نشانہ بنا ہے۔اور پھر جن کے قریبی عزیز اس مقام کو پاگئے ، اس شہادت کو پاگئے ، ان کے خطوط تھے جو مجھے تسلیاں دے رہے تھے اور اپنے اس عزیز ، اپنے بیٹے ، اپنے باپ، اپنے بھائی، اپنے خاوند کی شہادت پر اپنے رب کے حضور صبر اور استقامت کی ایک عظیم داستان رقم کر رہے تھے۔پھر جب میں نے تقریباً ہر گھر میں کیونکہ میں نے تو جہاں تک یہاں ہمیں معلومات دی گئی تھیں، اس کے مطابق ہر گھر میں فون کر کے تعزیت کرنے کی کوشش کی۔اگر کوئی رہ گیا ہو تو مجھے بتا دے۔جیسا کہ میں نے کہا میں نے ہر گھر میں فون کیا تو بچوں، بیویوں ، بھائیوں، ماؤں اور باپوں کو اللہ تعالیٰ کی رضا پر راضی پایا۔خطوط میں تو جذبات چھپ بھی سکتے ہیں، لیکن فون پر ان کی پُر عزم آوازوں میں یہ پیغام صاف سنائی دے رہا تھا کہ ہم اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کو سامنے رکھتے ہوئے مومنین کے اس رد عمل کا اظہار بغیر کسی تکلف کے کر رہے ہیں کہ اِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُوْن۔ہم پورے ہوش وحواس اور اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کا ادراک کرتے ہوئے یہ کہہ رہے ہیں کہ ہم اللہ تعالیٰ کی رضا پر خوش ہیں۔یہ ایک ایک دودو 18