شہدائے لاہور کا ذکر خیر — Page 204
ہے جہاں تمہارا باپ شہید ہوا تھا تا کہ تمہارے ذہن میں یہ رہے کہ میرا باپ ایک عظیم مقصد کے لئے شہید ہوا تھا، تا کہ تمہیں یہ احساس رہے کہ موت ہمیں اپنے عظیم مقصد کے حصول سے کبھی خوفزدہ نہیں کر سکتی۔جہاں ایسے بچے پیدا ہوں گے، جہاں ایسی مائیں اپنے بچوں کی تربیت کر رہی ہوں گی وہ قومیں کبھی موت سے ڈرا نہیں کرتیں۔اور کوئی دشمن ، کوئی دنیاوی طاقت ان کی ترقی کو روک نہیں سکتا۔یہ مالی اور جانی نقصان ہونے کی اطلاع تو آج سے چودہ سو سال پہلے ہمارے خدا نے ہمیں دے دی تھی اور ہمارے آقا و مطاع حضرت محمد مصطفیٰ ، خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کے عمل سے اس کی مثالیں بھی قائم فرما دی تھیں اور جب آخرین کو پہلوں سے جوڑا تو یہ واضح کر دیا کہ یہ مثالیں آخرین بھی قائم کریں گے۔اور پھر بَشِّرِ الصَّابِرِين (البقرہ: 156) کہہ کر آخرین کو بھی ان قربانیوں کے بدلے جنتوں اور فتوحات کی خوشخبری سنادی۔پس ہماری کوشش ہونی چاہئے کہ ان واقعات نے جو جماعتی قربانی کی صورت میں ہوئے جس طرح پہلے سے بڑھ کر ہمیں خدا تعالیٰ کی طرف راغب کیا ہے، اس جذبے کو ، اس ایمانی حرارت کو اللہ تعالیٰ کے حضور اپنی آہ و بکا کے عمل کو، اپنے اندر پاک تبدیلیوں کی کوششوں کو کبھی کمزور نہ ہونے دیں، کبھی کمزور نہ ہونے دیں، کبھی اپنے بھائیوں کی قربانی کو مرنے نہ دیں جو اپنی جان کی قربانیاں دے کر ہمیں زندگی کے نئے راستے دکھا گئے۔اگر ہم نے اپنی سوچوں اور اپنے عملوں کو اس نہج پر چلایا تو خدا تعالیٰ کی غیر معمولی نصرت کے نظارے بھی ہم دیکھیں گے، انشاء اللہ۔اور أَلَا إِنَّ نَصْرَ اللَّهِ قَرِيْب (البقرة:215) ( یا درکھو کہ اللہ کی مدد یقیناً قریب ہے) کی جاں فزا اور پُر شوکت آواز بھی ہم سنیں گے۔اور انا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحاً مبينا (الحج) کی خوشخبری اپنی آنکھوں سے دیکھیں گے۔پس خدا کے حضور جھک جائیں اور اپنے خدا کے حضور جو سب طاقتوں کا مالک ہے جو مجیب الدعوات ہے اس طرح چلا ئیں کہ عرش کے کنگرے بھی ملنے لگیں۔اللہ تعالیٰ مجھے بھی اور آپ کو بھی ایسی دعاؤں کی توفیق عطا فرمائے۔204