شہدائے لاہور کا ذکر خیر

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 199 of 243

شہدائے لاہور کا ذکر خیر — Page 199

مانگتے ہیں کہ تادم آخر ہمیں اس ایمان پر قائم رکھ جس کا عہد ہم نے تیرے فرستادے سے عہد بیعت کی صورت میں کیا ہے۔رَبَّنَا فَاغْفِرْ لَنَا ذُنُوبَنَا وَ كَفِّرْ عَنَّا سَيِّاتِنَا وَ تَوَفَّنَا مَعَ الأبْرَارِ ( آل عمران : 194) اے ہمارے رب! تو ہمارے قصور معاف کر اور ہماری بدیاں ہم سے مٹادے اور ہمیں نیکوں کے ساتھ وفات دے۔پس ہم عہدِ بیعت اسی صورت میں نبھا سکتے ہیں جب ہم خدا سے اپنے گناہوں کی معافی مانگتے رہیں، جب ہم برائیوں سے بچنے کی کوشش کرتے رہیں۔ہماری موت سبھی ان نیک لوگوں کے ساتھ ہو سکتی ہے جب ہم اپنے اعمال پر نظر رکھیں ، جب ہم اپنے عہد بیعت کو نبھانے کی ہر دم کوشش کرتے رہیں۔کتنے خوش قسمت ہیں وہ لوگ جنہوں نے اپنے عہد بیعت کو نبھایا ، جنہوں نے خدا تعالیٰ کی خوشنودی کی سند حاصل کی۔ہم شہداء کے واقعات سنتے ہیں ، بعض لکھنے والے مجھے لکھتے ہیں کہ آج کل خطبات میں جو شہداء کا ذکر ہو رہا ہے اور بعض کو ان میں سے ہم ذاتی طور پر جانتے ہیں اور ان کا ذاتی تجربہ ہے یقیناً ان میں سے ہر ایک اپنا عہد پورا کرنے والا اور ایک روشن چمکدار ستارہ تھا۔قطب ستارے یا بعض ستارے تو ارضی راستوں کی نشاندہی کرتے ہوئے رہنمائی کرتے ہیں۔یہ لوگ خدا تعالیٰ کی رضا کے حصول کی طرف رہنمائی کرنے والے ہیں۔یہ لوگ عشق و وفا کے لہلہاتے کھیتوں کی طرف ہمیں لے جانے والے ہیں۔پس یہ لوگ ہیں جنہوں نے عہد بیعت نبھایا ہے۔حضرت صاحبزادہ سید عبداللطیف صاحب شہید کے ذکر کے بعد ایک جگہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ : ” مجھے اپنی جماعت کی نسبت بہت امید بڑھ جاتی ہے کیونکہ جس خدا نے بعض افراد اس جماعت کو یہ توفیق دی کہ نہ صرف مال بلکہ جان بھی اس راہ میں قربان کر گئے ، اس خدا کا صریح یہ منشاء معلوم ہوتا ہے کہ وہ بہت سے ایسے افراد اس جماعت میں پیدا کرے جو صاحبزادہ مولوی عبد اللطیف کی روح رکھتے ہوں“۔( تذكرة الشهادتين ، روحانی خزائن جلد 20 صفحه 75) 199