شہدائے لاہور کا ذکر خیر

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 173 of 243

شہدائے لاہور کا ذکر خیر — Page 173

مجھے خط لکھا تھا، کہتی ہیں کہ ان کی خوبیاں تو شاید میں گنواہی نہیں سکتی۔حضور ! اگر میں یہ کہوں کہ وہ ایک فرشتہ صفت انسان تھے تو جھوٹ بالکل نہ ہوگا۔یہ تو پورے خاندان کے افراد کا کہنا ہے کہ وسیم صاحب جیسا دوسرا نہیں۔میں تو یہی سوچتی ہوں کہ خدا تعالیٰ نے یہ اعزاز وسیم صاحب کی اعلیٰ اور نمایاں خوبیوں کی وجہ سے ہی دیا ہے اور وسیم نے نہ صرف والدین کا اور میرا بلکہ پورے خاندان کا سر فخر سے بلند کر دیا۔پھر بھتی ہیں کہ جماعت سے محبت کوٹ کوٹ کر بھری تھی۔دو سال سے ناظم اطفال علامہ اقبال ٹاؤن لاہور تھے۔بچوں سے بہت پیار کرتے تھے۔انتہائی دفتری مصروفیات کے باوجود بچوں کے پروگرام کرواتے اور انہیں علمی مقابلہ جات کے لئے تیار کرتے۔کمزور بچوں پر توجہ دیتے اور ان کے والدین کو بھی تاکید کرتے کہ بچوں کو آگے لائیں۔اکثر ہماری مجلس کے بچے بہت انعامات جیتتے۔اور پھر وسیم صاحب کو دلی خوشی ہوتی تھی۔اپنی گاڑی پر بچوں کو دارالذکر لے کر جاتے اور واپس گھروں تک پہنچاتے۔غرض ہر کام کو محنت اور لگن سے کرتے تھے۔دفتری مصروفیات کے با وجود اکثر شام کو دارالذکر میں میٹنگ کے لئے جاتے اور باجماعت نماز ادا کرتے ، دفتر میں با قاعدگی سے نماز کے وقت نماز ادا کرتے تھے۔میں نے اکثر وسیم صاحب کو نماز ادا کرتے ہوئے غور کیا کہ وہ نماز ادا کرتے ہوئے حق ادا کرتے تھے۔کبھی نماز میں جمائی لیتے یا کوئی ایسی حرکت کرتے ہوئے نہیں دیکھا جس سے لگے کہ ان کا نماز میں دھیان نہیں ہے۔ایسا لگتا تھا جیسے وہ واقعی ہی خدا تعالیٰ کو سامنے دیکھ کر دعا کر رہے ہیں۔پھر بھتی ہیں مالی قربانی میں بھی وسیم صاحب ہمیشہ پیش پیش رہتے تھے۔ہمیشہ اپنی تنخواہ پر پورے دس حصہ ادا کرتے۔اور اس کے علاوہ جو بھی چندہ جات ہوتے ان میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے تھے۔کبھی بھی اپنی ذات پر فالتو پیسے خرچ نہیں کرتے تھے۔کبھی اپنے والدین کے سامنے اونچی آواز سے بات نہیں کی۔نہ صرف والدین سے بلکہ کسی سے بھی کبھی اونچی آواز سے بات نہیں کی۔انتہائی نرم مزاج تھے۔میں نے اپنی پوری شادی شدہ زندگی میں ان کے منہ سے کبھی کوئی سخت بات نہیں سنی۔وسیم صاحب کا چہرہ ہر وقت مسکراتا رہتا تھا۔اور کبھی میں کسی بات پر 173