شہدائے لاہور کا ذکر خیر

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 148 of 243

شہدائے لاہور کا ذکر خیر — Page 148

پنجاب سوسائٹی کے زعیم انصار اللہ سیکرٹری تربیت نو مبائعین ،سیکرٹری رشتہ ناطہ تھے۔وقف عارضی بہت شوق سے کرتے تھے۔شہادت سے پندرہ دن پہلے ان کی وقف عارضی مکمل ہوئی تھی۔وقف عارضی کے لئے انہوں نے عصر سے لے کر نماز عشاء کا ٹائم وقف کیا ہوا تھا۔عصر سے مغرب تک واپڈا ٹاؤن کے بچوں سے قرآنِ مجید، نماز باترجمہ اور نصاب وقف نو میں سے سورتیں وغیرہ سنتے۔اگر کسی بچے کا تلفظ درست نہ ہوتا تو اس کا تلفظ درست کرواتے۔اور نماز مغرب کے بعد NESS پارک سوسائٹی میں آ جاتے۔نماز عشاء تک وہاں کے بچوں کو پڑھاتے۔بچوں کے دلوں میں جماعت کی محبت ، خلیفہ وقت کی محبت اور اطاعت کا شوق پیدا کرنے والے واقعات سناتے۔میرے میاں کی شہادت کے بعد تمام بچے سوگوار تھے اور یہی کہتے کہ انکل تو ہمارے فیورٹ (Favorite) انکل تھے۔ہمیں انہوں نے بہت کچھ سکھایا۔ہر وقت زبان پر درود شریف اور خلافت جو بلی کی دعائیں ہوتی تھیں۔گھر میں ہم سب کو بھی درود شریف اور خلافت جو بلی کی دعائیں پڑھنے کی تلقین کرتے رہتے تھے۔اول وقت میں نماز پڑھنے کے عادی تھے اور اہلِ خانہ کو بھی اس کا عادی بنایا۔ان کے ایک اور واقف نے لکھا ہے کہ 1998ء سے 2001 ء تک مظفر گڑھ کے امیر ضلع رہے۔آپ کو جماعت کے افراد کی تربیت کا بڑا فکر ہوتا تھا۔آغاز اپنے گھر سے کرتے تھے۔لوگوں کے عائلی معاملات میں صلح و صفائی کی کوشش کرتے۔ایک دفعہ شہر سلطان ، ( یہ وہاں جگہ کا نام ہے ) میں عائلی معاملہ پیش تھا۔آپ نے فریقین کے حالات و واقعات سنے اور دیگر افراد سے بھی تصدیق چاہی۔دونوں خاندانوں کو سمجھایا۔اس وقت آپ کی آنکھوں میں آنسو تھے اور بار بار یہ صیحت کرتے تھے کہ آپ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی جماعت سے ہیں۔آپ کوشش کریں کہ اپنے گلے شکوے دور کر کے پھرا کٹھے ہو جائیں اور ناراضگی جانے دیں۔عاجزی اور انکساری کمال کی تھی۔کوئی معاملہ در پیش ہوتا تو مجلس عاملہ کے اراکین کے سامنے رکھتے اور ان سے رائے لیتے۔آپ میں کمال کی ستاری دیکھی۔کسی سے کوئی لغزش ہو جاتی تو اس کے لئے دعا بھی کرتے۔مرکز کو حالات لکھتے اور حالات سے آگاہ رکھتے اور اگر 148